صحت اور خوبصورتی کیلئے سرکہ کا استعمال

سرکہ عام طور پر سلاد کا ذائقہ بڑھانے، ڈبہ بند غذاؤں کو محفوظ رکھنے یا پھر کھڑکی اور دروازوں کو چمکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کی افادیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ عربی، فارسی اور اردو میں بیک وقت ایک ہی نام سے معروف سرکہ انگریزی زبان میں Vinegar کہلاتا ہے۔ یہ بظاہر ایک تیزابی مادہ ہوتا ہے جو عام طور پر ایتھنول سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہاں سرکہ سے مراد قدرتی طور پر تیار کیا جانے والا سرکہ ہے نہ کہ مصنوعی طریقے کے تحت تیار کردہ۔

سرکہ کئی قسم کا ہوتا ہے مثلاً سیب کا سرکہ، بلسان کا سرکہ، گنے کا سرکہ، ناریل کا سرکہ، کھجور کا سرکہ، پھلوں کا سرکہ، فلیورڈ سرکہ، شہد کا سرکہ، کیوی فروٹ کا سرکہ، چاولوں کا سرکہ، سفید سرکہ اور کشمش کا سرکہ وغیرہ۔ سرکہ کی چند خاص اقسام ایسی ہیں جو دنیا بھر میں بالخصوص کچھ ممالک میں خاص اہمیت کی حامل ہیں۔

سرکہ انبیائے کرام کو بھی بے حد پسند تھا۔ سنن ابن ماجہ کی ایک روایت کے مطابق نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے، اے اللہ سرکہ میں برکت عطا کر اس لیے کہ مجھ سے پہلے یہ تمام انبیاء کا سالن تھا اور جس گھر میں سرکہ ہو وہ گھر محتاج نہیں ہے۔

چین کی معروف ہوزونگ ایگریکلچرل یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق سرکہ کا ترش ذائقہ جسم کو بلڈ گلوکوز لیول کنٹرول کرنے کے قابل بناتا ہے، اس سے میٹابولزم کو بہتر اور وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ دوران خون بھی بہتر ہوتا ہے۔ دوسری جانب قدرتی اجزاء کے ساتھ سرکہ کی تیاری کا عمل اسے انسانی جسم کے لیے بے شمار فوائد کا حامل بناتا ہے۔

ویسے تو سرکہ مرد و خواتین دونوں کے لیے یکساں اہمیت کا حامل ہے لیکن کثیر المقاصد استعمال کے تحت یہ خواتین کی گروسری لسٹ کا لازمی حصہ بنتا ہے۔ کھانوں میں استعمال ہونے کے علاوہ اہل خانہ کی صحت، گھر کی صفائی اور خوبصورتی نکھارنے کے حوالے سے سرکہ بالخصوص سیب کا سرکہ بے پناہ افادیت کا حامل ہے۔

دنیا بھر کی خواتین کو اس وقت سب سے زیادہ خوف موٹاپے کا ہے۔ متناسب جسم اور مثالی وزن ہر خاتون کی اولین خواہش ہوتی ہے۔ سرکہ چونکہ شکم سیری کی سطح میں اضافہ کرتا ہے لہٰذا اس کا استعمال وزن کم کرنے کی خواہش رکھنے والی خواتین کے لیے خاصا مفید ہے۔ انٹرنیشنل سروے کے مطابق موٹاپے کا شکار افراد کو تین ماہ کے دوران بلا ناغہ سیب کا سرکہ پلایا گیا، جس کے بعد ایک چمچ استعمال کرنے والوں میں اوسطاً 2.6 پاؤنڈ جبکہ دو چمچ استعمال کرنے والوں میں 3.7 پاؤنڈ تک وزن میں کمی دیکھی گئی۔

کیل مہاسوں اور ایکنی سے پریشان افراد کو سیب کا سرکہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کے باعث یہ جِلد کے مساموں کو صاف رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک پیالے میں سیب کا سرکہ پانی کے ساتھ ملا کر متاثرہ حصے پر روئی کی مدد سے لگانے سے فائدہ بتایا جاتا ہے۔

سفید سرکہ کا استعمال جِلد پر پڑنے والے سیاہ دھبوں اور پگمنٹیشن میں کمی کے لیے مفید بتایا جاتا ہے۔ اسے عرق گلاب اور پیاز کے عرق کے ساتھ ملا کر چہرے پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ جلد کی صفائی اور رنگت میں بہتری آئے۔

بالوں کی خشکی کے لیے بھی سرکہ کو مفید سمجھا جاتا ہے۔ سیب کے سرکے کو پانی میں ملا کر اسپرے کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے اور کچھ دیر بعد بال دھو لیے جاتے ہیں۔

سیب کے سرکہ میں موجود خصوصیات جلد کے مردہ خلیات کو کم کرنے اور جھریوں کے اثرات میں کمی لانے میں مددگار سمجھی جاتی ہیں۔ اسے روئی کے ذریعے متاثرہ حصے پر لگایا جاتا ہے اور کچھ دیر بعد دھو لیا جاتا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close