چینی ماہرین نے عام بیٹریوں کے مقابلے میں ایک سستی اور محفوظ بیٹری تیار کی ہے جو لیتھیم سیلز کا متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ ایک نئی قسم کی سوڈیم–سلفر بیٹری ہے۔ برقی آلات کی بڑھتی ہوئی تعداد میں لیتھیم کو بطور اہم بیٹری میٹریل استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن لیتھیم بیٹریوں کے گرم ہونے اور اس میٹریل کے حصول میں مسائل کی وجہ سے یہ بیٹریاں نہ صرف مہنگی ثابت ہو رہی ہیں بلکہ سیفٹی کے لحاظ سے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔
ان ابتدائی ڈیزائنز کو نارمل درجۂ حرارت پر بجلی پیدا کرنے کے لیے درکار بنیادی کیمیائی عمل میں بھی شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ سائنس دانوں کے مطابق اینوڈ میں سوڈیم دھات کی بھاری مقدار کا استعمال، جو عام لیتھیم اور سوڈیم بیٹریوں کے مقابلے میں عموماً درجنوں گنا زیادہ ہوتا ہے، نہ صرف حفاظتی خطرات اور لاگت میں اضافے کا باعث بنتا ہے بلکہ دستیاب توانائی اور پاور ڈینسٹی کو بھی متاثر کر کے کم کر دیتا ہے۔
محققین نے کیمیائی ردِعمل میں ترمیم کر کے ایک ہائی وولٹیج، اینوڈ فری بیٹری تیار کی ہے جو کمرۂ درجۂ حرارت پر مؤثر انداز میں کام کرتی ہے۔ ان کے مطابق نیا ڈیزائن 3.6 وولٹ کا ڈسچارج وولٹیج فراہم کرتا ہے، جو سابقہ ماڈلز کے تقریباً 1.6 وولٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






