فیس بک اور انسٹاگرام کے لیے بڑا جھٹکا، امریکی عدالت کا سخت فیصلہ

واشنگٹن: ایک امریکی عدالت نے بچوں کی ذہنی صحت پر مبینہ مضر اثرات مرتب کرنے کے معاملے میں فیس بک کی سرپرست کمپنی میٹا پر مزید کروڑوں ڈالر جرمانہ عائد کر دیا، جس کے بعد مجموعی جرمانے کی رقم تقریباً ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

امریکی ریاست نیو میکسیکو کی عدالت نے میٹا کے خلاف زیرِ سماعت تاریخی مقدمے کے دوسرے مرحلے میں فیصلہ سنایا۔ اس سے قبل مارچ 2026 میں عدالتی جیوری نے قرار دیا تھا کہ کمپنی دانستہ طور پر بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچا رہی تھی اور بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق تفصیلات چھپا رہی تھی۔

پہلے مرحلے میں میٹا پر 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ نئے فیصلے میں مزید 56 کروڑ 70 لاکھ ڈالر جرمانہ کیا گیا، جس کے بعد مجموعی جرمانہ 94 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہو گیا ہے۔

عدالت کے جج برائن بائیڈشیلڈ کے مطابق جرمانے کی رقم میں سے 42 کروڑ ڈالر نیو میکسیکو میں نوجوانوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے والی سروسز کے لیے مختص کیے جائیں گے، جبکہ باقی رقم آئندہ پانچ برسوں کے دوران آگاہی مہمات، اسکریننگ سروسز اور دیگر اقدامات پر خرچ کی جائے گی۔

سماعت کے دوران پراسیکیوٹرز نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ میٹا اپنے پلیٹ فارمز میں بنیادی تبدیلیاں کرے تاکہ صارفین کو لت میں مبتلا کرنے والے فیچرز کو محدود کیا جا سکے، عمر کی تصدیق کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور بچوں کے جنسی استحصال کی روک تھام کے اقدامات مضبوط کیے جائیں۔

عدالت نے فیس بک اور انسٹاگرام کے لیے حفاظتی فیچرز اور ٹولز سے متعلق معلوماتی اسکرینز متعارف کرانے اور نیو میکسیکو میں تعلیمی مہم شروع کرنے کی ہدایت بھی کی۔

دوسری جانب میٹا کے ترجمان نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی اس کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ترجمان کے مطابق میٹا اپنے پلیٹ فارمز پر صارفین کے تحفظ کے لیے نقصان دہ مواد اور برے عناصر کے خلاف مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔