سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر ہفتے کو دھماکے کے بعد متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق زخمی افراد ایئرپورٹ کے اندر زمین پر پڑے دکھائی دیے، جب کہ مسافروں کو ٹرمینل کے بعض حصوں سے نکال لیا گیا۔ سعودی وزارتِ صحت نے ریاض میں ڈاکٹروں کو فوری طور پر اسپتالوں میں طلب کرلیا
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، واقعے کی اطلاع دو عینی شاہدین اور معاملے سے باخبر دو افراد نے دی۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اس نے ایئرپورٹ کے اندر دھماکا سنا اور متعدد افراد کو زخمی حالت میں زمین پر پڑے دیکھا۔ واقعے کے بعد ایک درجن سے زائد ایمبولینسز ایئرپورٹ کی جانب جاتی دکھائی دیں۔
دریں اثنا، غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ نے ایک طبی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ سعودی وزارتِ صحت نے ڈاکٹروں کو فوری طور پر اسپتالوں میں ڈیوٹی پر پہنچنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ایک سنگین ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ طبی ذریعے کے مطابق ریاض کے مختلف اسپتالوں میں ایمرجنسی رومز کے ڈاکٹروں کو طلب کیا جا رہا ہے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
سعودی حکومت کے میڈیا آفس اور سول ایوی ایشن اتھارٹی نے واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ یہ واقعہ سعودی عرب پر یمن کے حوثی گروپ کے میزائل حملوں میں اضافے کے دوران پیش آیا ہے۔
ریاض ایئرپورٹ کو رواں ہفتے اس سے پہلے بھی دو مرتبہ نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان واقعات میں چار افراد ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے تھے، جب کہ ایک طیارے کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ریاض جانے والی تمام پروازوں کا رخ دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا یا انہیں منسوخ کردیا گیا۔ ایک موقع پر ایئرپورٹ کے اوپر صرف ایک ہیلی کاپٹر پرواز کرتا دکھائی دیا۔
ایئرپورٹ انتظامیہ نے مسافروں کو ہدایت کی کہ وہ روانگی سے قبل اپنی متعلقہ ایئرلائنز سے رابطہ کریں اور پروازوں کی تازہ صورتِ حال معلوم کریں۔
کویت ایئرویز نے ریاض ایئرپورٹ کی بندش اور وہاں سیکیورٹی صورتِ حال کے باعث سعودی دارالحکومت آنے اور جانے والی پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اتحاد ایئرویز اور قطر ایئرویز نے بھی اپنے متعلقہ مراکز سے ریاض کے درمیان متعدد پروازیں منسوخ کیں، جن میں سے بعض منسوخیاں پیر تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
’رائٹرز‘ کے مطابق حوثیوں کے جمعرات اور رواں ہفتے کے آغاز میں کیے گئے حملوں کے بعد بھی کئی فضائی کمپنیوں نے ریاض کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کردی تھیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ریاض میں توانائی اور سرمایہ کاری سے متعلق بڑے بین الاقوامی اجلاس ہونے والے ہیں۔
ان اجلاسوں کے منتظمین نے ہفتے کو اعلان کیا کہ تقریبات طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گی اور شرکا کو سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے یقین دہانی کرائی۔
حوثیوں نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی جانب سے رواں ماہ اپنے خلاف کارروائی شروع کیے جانے کے بعد سعودی فضائی حدود کو فوجی کارروائیوں کا علاقہ قرار دیتے ہوئے فضائی کمپنیوں کو اس فضائی حدود سے گریز کرنے کا کہا ہے۔






