عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدوں پر بات چیت کے لیے خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان عمان میں آج ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے عہدیدار محمد علی بیک نے بتایا کہ اجلاس تہران اور مسقط کے مشترکہ فیصلے کے تحت خطے کے بعض ممالک کی درخواست پر ملتوی کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے انعقاد کے لیے مناسب وقت طے کرنے اور ضروری رابطہ کاری کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ایران عمان کے ساتھ قریبی مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ اجلاس آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ بحری آمدورفت کے لیے عارضی فریم ورک تشکیل دینے کی کوششوں کا حصہ تھا۔ اجلاس میں عراق سمیت دیگر خلیجی ریاستوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس سے قبل کہا تھا کہ متوقع اجلاس میں ان تمام ممالک کو شامل کیا جائے گا جن کی سرزمین سے ایران پر حملے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا کہ ان کا ملک ایسے مکالمے کے فروغ کے لیے پرعزم ہے جو خطے میں استحکام اور دیرپا تعاون کو یقینی بنانے میں مدد دے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ خلیجی ممالک کا ایران سے ملاقات کرنا ان کا اپنا فیصلہ ہے اور امریکا کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔






