سابق برطانوی وزیراعظم اور اعلیٰ یورپی حکام روسی ڈرون حملے میں بال بال بچ گئے

برطانیہ کے سابق وزیراعظم بورس جانسن روسی ڈرون حملے میں بال بال بچ گئے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق حملہ پولینڈ کی سرحد کے قریب اس وقت کیا گیا جب بورس جانسن اور دیگر اعلیٰ یورپی حکام اسی ریلوے روٹ سے گزر چکے تھے۔ جانسن یوکرین کے دارالحکومت کیف سے پولینڈ جانے والی ٹرین میں سفر کر رہے تھے، جبکہ حملے کا مقام پولینڈ کی سرحد سے تقریباً دو کلومیٹر دور بتایا گیا ہے۔

یوکرینی ریلوے حکام کے مطابق پولینڈ کی سرحد پر واقع یاہودن اسٹیشن پر ایک مسافر ٹرین کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔ مسلسل روسی حملوں کے خطرے کے باعث بورس جانسن کی ٹرین کو مقررہ وقت سے پہلے روانہ کردیا گیا تھا، جس کے باعث وہ حملے سے محفوظ رہے۔ یوکرینی ریلوے کمپنی کے مطابق ممکن ہے کہ ڈرون کا اصل ہدف وہی ٹرین ہو جس میں بورس جانسن سفر کر رہے تھے۔

بورس جانسن نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہری ریلوے نظام بھی روسی حملوں سے محفوظ نہیں رہا۔ ان کے ساتھ برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول، سویڈن کے سابق وزیراعظم کارل بلڈٹ اور دیگر یورپی سفارت کار بھی اسی ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ یوکرین کے وزیر خارجہ آندرے سیبیہا نے کہا کہ روسی حملے نیٹو اور یورپی یونین کی سرحدوں کے مزید قریب پہنچ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ فروری 2022 سے جاری ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک، لاکھوں بے گھر اور متعدد شہر شدید تباہی کا شکار ہوچکے ہیں۔