مدینہ منورہ میں یورینیئم کا بڑا ذخیرہ دریافت , 110 ملین ٹن خام معدنیات کی موجودگی کا انکشاف

سعودی عرب نے مدینہ منورہ کے خطے میں یورینیئم اور دیگر معدنیات کے بڑے ذخائر کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔ سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ویانا میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی جنرل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ جبل صاید منصوبے کے علاقے میں ہونے والی جیولوجیکل تحقیق کے دوران تقریباً 110 ملین ٹن خام معدنی وسائل کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، جن میں یورینیئم اور نایاب معدنیات بھی شامل ہیں۔

سعودی وزیرِ توانائی کے مطابق جبل صاید منصوبے کی یہ دریافت سعودی عرب کو عالمی سطح پر اہم معدنی وسائل رکھنے والے ممالک میں مزید نمایاں کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اپنے ایٹمی پروگرام کو خفیہ سرگرمیوں کے بجائے شفافیت، بین الاقوامی تعاون اور عالمی اصولوں کے مطابق آگے بڑھا رہا ہے۔

شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے توانائی اور معدنی وسائل میں تنوع کو ملکی معاشی ترقی اور سپلائی کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب وژن 2030 کے تحت تیل پر انحصار کم کرنے اور توانائی کے متبادل ذرائع سمیت سویلین ایٹمی صلاحیت کو فروغ دینے کی کوششیں کر رہا ہے۔

اس سے قبل امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سویلین نیوکلیئر تعاون کے حوالے سے ایک معاہدہ بھی طے پایا تھا، جس کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے جوہری توانائی کے پروگرام میں معاونت کریں گی۔

ماہرین کے مطابق یورینیئم اور دیگر معدنی وسائل کی یہ دریافت سعودی عرب کے لیے معاشی اور توانائی کے شعبوں میں اہم پیشرفت ثابت ہوسکتی ہے اور خطے میں سویلین ایٹمی توانائی و جدید معدنیات کے شعبے میں مملکت کی پوزیشن مزید مضبوط کرسکتی ہے۔