اسد عمر اور مفتاح اسماعیل کی پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کے فیصلے کی حمایت

سابق وفاقی وزرا اسد عمر اور مفتاح اسماعیل نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو معیشت کے لیے بہتر قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں شرح سود میں اضافہ معاشی سرگرمیوں کو مزید متاثر کرسکتا ہے، جبکہ اس سے کاروبار اور سرمایہ کاری پر بھی منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث فوری طور پر پالیسی ریٹ بڑھانا قبل از وقت ہوگا۔ ان کے مطابق شرح سود میں اضافہ معیشت پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے، اس لیے موجودہ سطح پر پالیسی ریٹ برقرار رکھنا مناسب فیصلہ ہے۔

انہوں نے اسٹیٹ بینک کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی بینک کو فی الحال پالیسی ریٹ برقرار رکھنا چاہیے۔

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں بلند مہنگائی، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ملکی معیشت کو درپیش مختلف چیلنجز کے تناظر میں کیا گیا۔

پاکستان میں مہنگائی کی بلند شرح بدستور ایک اہم مسئلہ ہے۔ اگست میں مہنگائی کی سالانہ شرح 11.5 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتیں مہنگائی کے مجموعی رجحان پر اثرانداز ہونے والے اہم عوامل میں شامل ہیں۔