وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے سادگی، اعتدال اور حکمرانی کے معیار سے متعلق بیان نے ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی، جبکہ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اسے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر تنقید قرار دے دیا۔
احسن اقبال نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں خلیفہ صالح حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد حکمران کا معیار زندگی رعایا کے حالات سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی زندگی آج کے ہر صاحبِ اختیار کے لیے ایک آئینہ ہے۔ جب قوم مہنگائی، بے روزگاری اور ضروریاتِ زندگی کے بوجھ تلے دبی ہو تو قومی قیادت کے لیے سادگی، اعتدال اور عوامی احساسات کا لحاظ محض پسندیدہ رویہ نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نجی خوشیاں ہر انسان کا حق ہیں، تاہم اقتدار سے وابستہ زندگی مکمل طور پر نجی نہیں رہتی۔ قیادت کی اصل شان نمائش میں نہیں بلکہ عوام کے حالات کے ساتھ ہم آہنگی میں ہے۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے ثابت کیا کہ اقتدار انسان کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کا نہیں بلکہ اس کے معیارِ ذمہ داری کو بلند کرنے کا نام ہے۔
دوسری جانب سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے احسن اقبال کے بیان کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر براہِ راست تنقید قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو شخصی غلامی کے خول سے باہر آنا چاہیے، کیونکہ اسی میں پاکستان کا فائدہ ہے۔






