اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو ممکنہ احتجاج کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اسے نمٹا دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو سڑکوں یا دیگر عوامی مقامات پر قبضے کا حق حاصل نہیں، اور نہ ہی کسی جماعت یا رہنما کو شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
عدالت نے وفاقی سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد سمیت تمام صوبائی چیف سیکریٹریز اور آئی جیز کو عدالتی ہدایات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
فیصلے میں وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی گئی کہ کسی سیاسی جماعت کے احتجاج کے لیے سرکاری مشینری یا وسائل استعمال نہ ہونے دیے جائیں۔ مارچ، جلوس یا ریلی کے لیے سرکاری گاڑیاں، مشینری یا دیگر سامان فراہم نہ کیا جائے اور کسی سرکاری ملازم کو احتجاج میں شرکت پر مجبور نہ کیا جائے۔
عدالت نے واضح کیا کہ کوئی افسر کسی احتجاج یا ریلی میں شرکت کے لیے زبردستی کرنے والے حکم پر عمل نہ کرے۔ اگر کسی افسر کو ایسا کرنے پر مجبور کیا جائے تو وہ فوری طور پر چیف سیکریٹری، چیف کمشنر یا متعلقہ آئی جی کو آگاہ کرے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ چیف سیکریٹریز کے جائز احکامات پر عمل نہ کرنے والے افسر کے خلاف فوری طور پر سخت محکمانہ کارروائی کی جائے۔
عدالت نے چیف سیکریٹریز، چیف کمشنر اسلام آباد اور تمام آئی جیز کو فوری طور پر ہیلتھ اور شکایتی ہیلپ لائن قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اسلام آباد انتظامیہ اور وزارت داخلہ کو عام شہریوں کے بنیادی اور آئینی حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنانے کا حکم دیا گیا۔






