پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنے سے متعلق اسرائیلی وزیرِ دفاع کے بیان کی شدید مذمت کی ہے اور فلسطینیوں کی جبری منتقلی کی ہر کوشش کو مسترد کر دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان جاری کیا۔
مشترکہ اعلامیے میں اسرائیلی وزیرِ دفاع سمیت اسرائیلی وزرا کے فلسطینیوں کی بے دخلی سے متعلق بیانات کو قابلِ مذمت قرار دیا گیا۔ کہا گیا کہ اس نوعیت کے بیانات فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے لیے خطرہ ہیں۔
آٹھوں ممالک نے واضح کیا کہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے منتقل کرنے کے منصوبے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے غزہ سے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کی ہر کوشش مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی پالیسی یا بیان کو عملی قدم میں بدلنے کے سنگین نتائج ہوں گے۔
اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ فلسطینیوں کو ان کی زمین سے اکھاڑنے کی کوششیں خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور یہ غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے جاری بین الاقوامی کوشوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
آٹھ اسلامی ممالک نے کہا کہ غزہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین کا لازمی اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔ غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس سمیت تمام فلسطینی علاقوں کے اتحاد کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
اعلامیے میں فلسطینی کاز کو ختم کرنے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو کمزور کرنے کی ہر کوشش مسترد کی گئی۔ فلسطینی عوام کی اپنی سرزمین پر ثابت قدمی کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ منصفانہ اور دیرپا امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل ہے۔ اعلامیے میں 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت بنانے پر زور دیا گیا۔
مشترکہ بیان میں عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں نئی آبادیاتی یا جغرافیائی حقیقت مسلط کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کیا جائے۔
آٹھ اسلامی ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کی اپنی سرزمین پر موجودگی اور ثابت قدمی کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔






