ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستانی فاسٹ بولرز کی دھاک ختم، بدترین اعداد و شمار سامنے آگئے

ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستانی فاسٹ بولرز کی کارکردگی گزشتہ چند برسوں میں نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔ 2022 سے اب تک پاکستان کا اسٹرائیک ریٹ دیگر بڑی ٹیموں کے مقابلے میں سب سے کمزور رہا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق کم از کم 10 ٹیسٹ میچز کھیلنے والی ٹیموں میں پاکستان نے 32 میچز میں 239 وکٹیں حاصل کیں۔ اس دوران فاسٹ بولرز کی اوسط 35.53 اور اسٹرائیک ریٹ 59.3 رہا۔

پاکستان کی مجموعی بولنگ اوسط 34 رہی، جو اس عرصے میں کم از کم 20 ٹیسٹ کھیلنے والی 9 ٹیموں میں آٹھویں نمبر پر ہے۔

جنوبی افریقا اس فہرست میں سرفہرست ہے۔ جنوبی افریقا کے فاسٹ بولرز نے 33 میچز میں 368 وکٹیں حاصل کیں اور 23.78 کی اوسط و 42.3 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ بہترین کارکردگی دکھائی۔

پاکستان کے بعد بنگلادیش کا اوسط 34.73 اور اسٹرائیک ریٹ 57.4 رہا۔ تاہم پاکستانی فاسٹ بولرز کا اسٹرائیک ریٹ تمام ٹیموں میں سب سے زیادہ یعنی سب سے کمزور رہا۔

یاد رہے کہ پاکستانی کرکٹ کی اصل پہچان ہمیشہ اس کی بولنگ، خصوصاً فاسٹ بولنگ رہی ہے۔ لیکن موجودہ فاسٹ بولنگ اٹیک رفتار اور مہارت دونوں اعتبار سے ماضی کے عظیم پاکستانی بولرز کے مقابلے میں کمزور نظر آتا ہے۔