اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کا نقشہ زیادہ درست جغرافیائی تناسب کے ساتھ دکھانے کے لیے نئی قرارداد منظور کر لی ہے۔ اس کے تحت ایسے نقشے کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جس میں افریقہ، لاطینی امریکا، جنوبی ایشیا اور اوشیانا اپنے اصل رقبے کے زیادہ قریب نظر آئیں۔ قرارداد کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ امریکا نے اس کی مخالفت کی۔
فرانسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قرارداد میں ’’مساوی زمین‘‘ Equal Earth نقشے کی حمایت کی گئی ہے۔ اس نقشے میں دنیا کے وہ خطے زیادہ درست حجم میں دکھائے گئے ہیں جو روایتی نقشوں میں نسبتاً چھوٹے نظر آتے ہیں۔
اقوام متحدہ نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ نقشوں میں مرکیٹر پروجیکشن کے بجائے نئے نقشے کے استعمال کی حوصلہ افزائی کریں۔
مرکیٹر نقشے میں کیا مسئلہ ہے؟
مرکیٹر نقشہ 1569 میں سمندری سفر اور راستوں کی رہنمائی کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ تاہم اس میں دنیا کے مختلف خطوں کا رقبہ درست تناسب سے ظاہر نہیں ہوتا۔ مرکیٹر نقشے میں شمالی علاقے خصوصاً یورپ اور شمالی امریکا اپنے حقیقی رقبے سے کہیں بڑے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ خط استوا کے قریب واقع افریقہ اور جنوبی امریکا نسبتاً چھوٹے نظر آتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ گول زمین کو کاغذ کی ہموار سطح پر دکھانے کا مسئلہ ہے، جس سے بعض خطوں کے حجم میں نمایاں فرق آ جاتا ہے۔
نیا ’’مساوی زمین‘ نقشہ 2018 میں ماہرین نقشہ سازی نے تیار کیا تھا۔ اس کا مقصد دنیا کے مختلف براعظموں کے رقبے کو زیادہ درست تناسب سے پیش کرنا ہے تاکہ لوگوں کا تصور حقیقت سے زیادہ قریب ہو۔
دنیا کے نئے نقشے سے متعلق قرارداد ٹوگو نے پیش کی۔ ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈوسی نے کہا کہ نقشے صرف جغرافیہ کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ تعلیم اور لوگوں کے تصورات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
دوسری جانب امریکا نے قرارداد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو نقشوں کے بجائے دنیا کے حقیقی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
فرانس نے قرارداد کی حمایت کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ روایتی مرکیٹر نقشے کو ترک کر کے نئے نقشے کے استعمال کی طرف جائے گا۔






