جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی کے مطابق امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان سربراہی ملاقات کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں اور دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات کسی بھی وقت ممکن ہو سکتی ہے۔
جنوبی کوریا کے قانون ساز یون کن ینگ نے نیشنل انٹیلی جنس سروس کی بریفنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان کسی باضابطہ یا ٹھوس رابطے کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے ممکنہ آثار ضرور سامنے آئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ ایک اور ملاقات کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، تاہم پیانگ یانگ کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کی جانب سے 7 ستمبر سے شروع ہونے والی مشترکہ بحری مشقوں پر شمالی کوریا نے سخت ردعمل دیا ہے۔ شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں ان مشقوں کو ملک اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی آخری ملاقات 30 جون 2019 کو شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان غیر فوجی علاقے میں واقع پنمنجوم میں ہوئی تھی۔ اس موقع پر ٹرمپ نے مختصر طور پر شمالی کوریا کی سرزمین پر قدم رکھا تھا اور وہ ایسا کرنے والے پہلے برسرِ منصب امریکی صدر بن گئے تھے۔
اس سے قبل دونوں رہنماؤں کی جون 2018 میں سنگاپور اور فروری 2019 میں ہنوئی میں بھی سربراہی ملاقاتیں ہو چکی ہیں، تاہم ان مذاکرات کے باوجود شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی مستقل معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا۔






