پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان قائم ’مکہ دفاعی اتحاد‘ میں مستقبل میں دیگر ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے طے شدہ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیدان کے مطابق یہ سہ ملکی اتحاد دفاعی اصولوں پر مبنی ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک بھی مقررہ شرائط پوری کرنے کی صورت میں مکہ دفاعی اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں۔
خاقان فیدان نے بتایا کہ خطے کی سیکیورٹی کے لیے اتحاد کا عملی اور آپریشنل ڈھانچہ تشکیل دینے کے اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ مکہ دفاعی اتحاد کا سیکریٹریٹ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم ہوگا، جبکہ پہلے سیکریٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہوگا۔






