ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے ’مکہ دفاعی معاہدے‘ میں ایران کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، تاہم تینوں ممالک میں سے کسی نے بھی تاحال اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
ایران کی پارلیمنٹ کی نیوز ایجنسی کے سربراہ مہدی رحیمی نے ایک قطری نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو معاہدے میں شمولیت کی دعوت موصول ہوئی ہے اور اس معاملے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق خطے کے ممالک ایک مشترکہ علاقائی سکیورٹی نظام کی تشکیل کی جانب بڑھ رہے ہیں، جسے انہوں نے ایران کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران طویل عرصے سے خطے میں مقامی ممالک پر مشتمل سکیورٹی نظام کی حمایت کرتا آیا ہے۔
مہدی رحیمی نے امریکا پر ایران کے خلاف معاشی دباؤ ڈالنے کا الزام بھی عائد کیا اور خبردار کیا کہ واشنگٹن کا ساتھ دینے والے ممالک کو اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
تاہم سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کی حکومتوں نے ایران کو دعوت دیے جانے کی تصدیق نہیں کی۔ اس حوالے سے کوئی باضابطہ دستاویز بھی سامنے نہیں آئی جس میں ایران کو معاہدے کے ممکنہ رکن کے طور پر شامل کیا گیا ہو۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو سعودی شہر مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
اس معاہدے کو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت ایک رکن پر حملہ اجتماعی دفاع کے اصول کے تحت دیگر ارکان کے خلاف بھی حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 17 ستمبر 2025 کو ریاض میں ہونے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کو مزید وسعت دینے کے نتیجے میں سامنے آیا۔ ترکیہ کی شمولیت دونوں ممالک کے ساتھ اس کے طویل عرصے سے جاری دفاعی تعاون کے تناظر میں ہوئی۔
تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بنایا گیا۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مستقبل میں مصر بھی اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ معاہدے کے اصولوں کی پاسداری کرنے والے علاقائی ممالک کے لیے اس کے دروازے کھلے ہیں۔






