امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا جلد ہی دنیا کے اہم ترین بحری راستے آبنائے ہرمز کو اپنا علاقہ قرار دے گا۔
گارڈن سٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو شکست دینے کے فوراً بعد وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے۔
انہوں نے امریکی عوام کو پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں برداشت کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں پیٹرول کے لیے تھوڑے سے زیادہ پیسے دینے پڑ رہے ہیں تو اسے ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی قیمت سمجھا جائے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک عظیم خدمت سرانجام دے رہے ہیں اور اس کے لیے وہ کبھی معافی نہیں مانگیں گے۔
امریکی صدر کے اس بیان نے نہ صرف عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات سے قبل خود ان کے لیے معاشی اور سیاسی مشکلات بھی کھڑی کردی ہیں، کیونکہ ملک میں پیٹرول کی قیمت چار ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے اور خام تیل 90 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ رہا ہے۔
امریکی صدر کے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایران نے آبنائے ہرمز پر کسی بھی امریکی کنٹرول یا دباؤ کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایران امریکا کی دھمکیوں یا طاقت سے ہرگز مرعوب نہیں ہوگا اور آبنائے ہرمز کو کھولنا یا بند کرنا صرف اور صرف ایران کے اختیار میں ہے۔
اس سیاسی کشمکش کے دوران خلیج میں بحری آمدورفت تقریباً مفلوج ہوکر رہ گئی ہے اور تازہ حملوں کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی نیشنل آئل کمپنی کے دو بحری جہازوں پر آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے حملے کیے گئے ہیں، جس کا الزام اماراتی حکومت نے ایران پر عائد کیا ہے۔
جنگ سے پہلے اس اہم راستے سے روزانہ 130 سے زائد تجارتی جہاز گزرتے تھے، لیکن اب یہ تعداد گھٹ کر نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔
امریکی دفاعی وزیر پیٹ ہیگسیتھ نے پاناما کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بحریہ غیر معینہ مدت تک ایران کی ناکہ بندی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور وہ اپنے جہازوں کی باری باری تبدیلی کے ذریعے اس سیکیورٹی کو جاری رکھیں گے۔
اسی طرح امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے نیوز میکس کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ امریکا آنے والے دنوں میں ایران پر ایسی معاشی پابندیاں اور اقدامات نافذ کرنے جا رہا ہے جس کی مثال معاشی تنہائی کی تاریخ میں نہیں ملتی۔






