پشاور (آن لائن) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے دورہ سندھ کے تیسرے روز نواب شاہ، سانگھڑ، میرپورخاص اور عمرکوٹ میں 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقدہ اسٹریٹ موومنٹ ریلیوں اور عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ سندھ کا جوش و جذبہ بتا رہا ہے کہ سندھ کا سیاسی منظرنامہ بدل چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے سندھ کو پیپلز پارٹی کی سیاسی جاگیر قرار دینے کے بیانیے کو نواب شاہ سمیت تمام اضلاع کے عوام نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ شدید گرمی میں سندھ کے عوام کا جوش و جذبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سندھ میں عمران خان کی حمایت غیر معمولی سطح پر موجود ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سوال کیا کہ ’’سندھ کس کا ہے؟‘‘ اور کہا کہ عوام نے ’’عمران خان‘‘ کا نعرہ لگا کر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ پر کئی دہائیوں سے قائم سیاسی اجارہ داری کا تاثر آج عوامی طاقت کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زرداری ماضی بن چکے ہیں اور خاندانی سیاست کا دور ختم ہونے جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اپنے بیٹوں، بیٹیوں اور رشتہ داروں کو اقتدار منتقل کرتے ہیں، وہ لیڈر نہیں بلکہ گیدڑ ہیں۔ قیادت عوام کے درمیان سے جنم لیتی ہے، جبکہ پیراشوٹ سے اترنے والے لیڈر نہیں بن سکتے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان نے انہیں عوام میں سے منتخب کیا، وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور عام پاکستانی کی طرح رکشوں اور ٹیکسیوں میں سفر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں کتنی بھی دھاندلی کی جائے، کسی کا باپ بھی پاکستان تحریک انصاف کو نہیں ہرا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہم عوام سے آئے ہیں اور عوام ہی میں واپس جائیں گے، ہمارے بیرون ملک فلیٹس یا جزیرے نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن نام اور تصویر سے حکمران خوفزدہ ہیں، وہ پاکستان، عام پاکستانی، عوام اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی بات کرتے ہیں۔ عمران خان ہی واحد لیڈر ہیں جنہیں پاکستان اور پاکستانیوں کی فکر ہے۔
وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ ’’چور لٹیرے‘‘ پاکستان کی فکر نہیں کرتے اور اقتدار میں عوام کا پیسہ لوٹ کر بیرون ملک لے جانے کے لیے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کسی ایک صوبے کے نہیں بلکہ پاکستان کے ہر طبقے اور ہر خطے کے لیڈر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قائداعظم کے بعد اللہ نے پاکستان کو عمران خان جیسا لیڈر عطا کیا۔ سندھ، خیبرپختونخوا، پنجاب، گلگت بلتستان، بلوچستان اور اقلیتوں سمیت ہر طبقہ عمران خان کو اپنا لیڈر سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ پاکستانی عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ آرام دہ اور آسائشوں بھری زندگی اختیار کرنے کی صلاحیت کے باوجود عمران خان پاکستان کے لیے غیر قانونی قید میں ثابت قدم ہیں۔ ان کے مطابق فاشسٹ طاقتوں نے عمران خان کو اس خوف سے قید کر رکھا ہے کہ ان کی اجارہ داری اور لوٹ مار کا خاتمہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا نظریہ جیل میں قید نہیں کیا جا سکتا اور ان کا پیغام آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جو لوگ ہر مخالف کو دہشت گرد اور ریاست دشمن قرار دیتے ہیں، وہ ہر روز عوام میں اپنی ساکھ کھو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فاشسٹ حکمران عوام کا پیسہ لوٹ کر ایون فیلڈ اور دبئی میں فلیٹس اور بیرون ملک جزیرے خریدتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کے پیسے سے بیرون ملک جائیدادیں بنانے والوں نے ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا۔ ان کے مطابق عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے لیے 2022 میں اندرونی غداروں کی پشت پناہی سے رجیم چینج آپریشن کیا گیا، جس کے بعد 43 ہزار ارب روپے کا قرض آج 97 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اور اس بوجھ کی قیمت محنت کش پاکستانی ادا کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تین ججوں کے حکم کے باوجود انہیں عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے عدالتی حکم کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے تین ججوں کے حکم کے باوجود عمران خان کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل منتقل نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ عدلیہ کو بے اثر کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر عدالت کے حکم کی بھی کوئی حیثیت نہیں تو پھر عام پاکستانی کو انصاف کہاں سے ملے گا؟
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ 27 ستمبر کی کال عمران خان یا پی ٹی آئی کے لیے نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے اپنے حقوق کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنی قوم کی طرف دیکھ رہے ہیں، اب قوم کو اپنے حقوق کے لیے باہر نکلنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر کو سندھ سمیت پورا پاکستان اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ فاشسٹ طاقتوں کا وطیرہ ہے کہ اپنے حقوق مانگنے والوں پر گولیاں چلاتی ہیں، مگر عوام گولیوں سے نہیں ڈریں گے۔ گولیاں، جیلیں اور ظلم عوام کے جوش و جنون کو شکست نہیں دے سکتے۔
انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو فیصلہ ہوگا کہ پاکستان خاندانی سیاست کے تابع رہے گا یا عوام اپنے حقوق واپس لیں گے۔






