چین کی وزارت دفاع نے جاپان پر زور دیا ہے کہ وہ دوسری عالمی جنگ کے دوران اپنی جارحیت پر سنجیدگی سے غور کرے اور دوبارہ عسکریت پسندی کی جانب بڑھنے سے گریز کرے۔
چینی وزارت دفاع کے ترجمان چن شی نے جاپان کے مالی سال 2027 کے لیے تقریباً 8.9 ٹریلین ین (55.9 ارب ڈالر) کے ریکارڈ دفاعی بجٹ کی تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جاپان کے بڑھتے دفاعی اخراجات اور جارحانہ عسکری صلاحیتوں میں اضافہ خطے کے امن و استحکام کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
ترجمان نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے اختتام کو 81 سال مکمل ہونے والے ہیں، لیکن جاپان نے تاریخ سے حقیقی سبق نہیں سیکھا۔ ان کے مطابق جاپان میں دائیں بازو کی قوتوں کی جانب سے جنگی جرائم کو نظرانداز کرنے اور ماضی کی جارحیت کو سفید کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
چینی وزارت دفاع نے جاپان پر الزام عائد کیا کہ وہ بیرونی خطرات کا جواز پیش کرتے ہوئے دفاعی بجٹ میں بڑے پیمانے پر اضافہ، جارحانہ فوجی صلاحیتوں کی تیاری اور دفاعی صنعت کو وسعت دے رہا ہے۔
چن شی نے کہا کہ تاریخی حقائق کو فراموش نہیں کیا جاسکتا اور انصاف و امن پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے جاپان سے جنگی جرائم پر خود احتسابی، ماضی کی غلطیوں کا ازالہ اور جنگ کے بعد قائم عالمی نظام کی پابندی کا مطالبہ کیا۔
چینی ترجمان نے خبردار کیا کہ جاپان کی جانب سے دوبارہ ’’غلط راستہ‘‘ اختیار کرنے کی صورت میں اسے مزید سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔






