*ایران کا اربیل کے اطراف میں کرد ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملہ، سکیورٹی صورتحال کشیدہ*
ایران نے عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے کے دارالحکومت اربیل کے گردونواح میں کرد پوزیشنز کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی فورسز نے اربیل میں موجود کرد ٹھکانوں کی جانب متعدد میزائل اور ڈرون داغے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کے بعد اربیل صوبے میں چار ڈرونز گر کر تباہ ہو گئے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ڈرونز کس کے تھے اور انہیں کس نے مار گرایا۔
حملے کا ہدف عراق کے کرد علاقے میں موجود کرد پوزیشنز بتائے جا رہے ہیں۔ ابھی تک حملے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی سرکاری تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
اربیل اور اس کے اطراف پہلے بھی ایران اور کرد مسلح گروہوں کے درمیان کشیدگی کا مرکز رہے ہیں۔ ایران ماضی میں عراق کے کرد علاقوں میں موجود بعض ایرانی کرد گروہوں کے ٹھکانوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث پورے مشرق وسطیٰ میں فوجی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ عراق بھی اس کشیدگی سے متاثر ہو رہا ہے جہاں مختلف مسلح گروہوں اور غیر ملکی افواج کی موجودگی سے صورتحال مزید پیچیدہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اربیل میں ایرانی حملوں سے عراق کے کرد علاقے میں سکیورٹی خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ اگر خطے میں اس طرح کی کارروائیاں جاری رہیں تو اس کے اثرات عراق کی داخلی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران، امریکا اور دیگر علاقائی طاقتوں کے تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
تاحال حملے میں ہلاکتوں یا زخمیوں کے حوالے سے مزید سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
#ایران #عراق #اربیل #کردستان #مشرق_وسطی #میزائل_حملہ #ڈرون #ایران_امریکا_کشیدگی #BreakingNews






