ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے ایک اور بحری جہاز کو آبنائے ہرمز میں میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ADNOC کے مطابق اس کا ایک جہاز ہفتے کی صبح آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے میزائل حملے کا نشانہ بنا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے۔ کمپنی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کیا جائے اور غیر مصدقہ اطلاعات یا افواہیں پھیلانے سے گریز کیا جائے۔
حملے کا نشانہ بننے والے جہاز کا نام، اس کے کارگو اور اسے پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات تاحال عوامی طور پر سامنے نہیں آئی ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہوئے اسے پاسداران انقلاب کی جانب سے ’قذاقی‘ قرار دیا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ADNOC نے 7 اگست کو بتایا تھا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد اس کے 15 بحری جہاز میزائل یا ڈرون حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں ایک عملے کا رکن ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔ کمپنی کے مطابق صرف گزشتہ ہفتے تین ایسے حملے ہوئے تھے۔ تازہ واقعے کو ADNOC کے جہازوں پر 16واں حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
حملے کے بعد یہ سوال بھی اہم ہوگیا ہے کہ اگر خلیج میں وسیع تر بحری آمدورفت کو خطرات لاحق ہوتے ہیں تو اس کے علاقائی اور عالمی تجارت پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ میزائل کہاں سے فائر کیا گیا، کس نوعیت کا میزائل استعمال ہوا اور جہاز کو آبنائے ہرمز کے کس مقام پر نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی فوج نے تاحال حملے کی باضابطہ ذمہ داری قبول نہیں کی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور فریقین کی جانب سے مذاکرات میں پیش رفت کے اشارے دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب امریکا کی جانب سے بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے متعلق اشارے سامنے آئے ہیں۔






