بیجنگ (آئی این پی): چین نے غیر ملکی مسافروں کے لیے ویزا فری انٹری پالیسی میں مزید توسیع اور بارڈر کنٹرول پر جدید ڈیجیٹل سہولیات متعارف کرانے کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد عالمی مسافروں کے لیے چین کا سفر مزید آسان بنانا ہے۔
چین کی وزارتِ عوامی تحفظ کے مطابق یہ اقدامات حکومت کی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کے تحت ملک کو دنیا کے لیے مزید کھولا جا رہا ہے اور غیر ملکی سیاحوں، کاروباری افراد اور دیگر مسافروں کے لیے داخلے کے عمل کو سہل بنایا جا رہا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق حکام ویزا فری ٹرانزٹ اور داخلے کے قوانین کو مزید مؤثر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ نئے منصوبے کے تحت ای پاسپورٹ اور دیگر ڈیجیٹل سفری دستاویزات کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا تاکہ کاغذی کارروائی کم ہو اور امیگریشن کا عمل تیز ہو سکے۔
حکام نے بتایا کہ مزید اسمارٹ بارڈر چینلز بھی قائم کیے جائیں گے، جہاں اہل مسافر تیزی سے امیگریشن مراحل مکمل کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ ویزا، رہائشی اجازت ناموں اور دیگر امیگریشن خدمات کو مرحلہ وار مکمل طور پر آن لائن منتقل کیا جائے گا۔
وزارت کے مطابق اس وقت 50 ممالک کے شہریوں کو چین میں یکطرفہ ویزا فری داخلے کی سہولت حاصل ہے، جبکہ 55 ممالک کے مسافر 65 داخلی مقامات سے 240 گھنٹے تک بغیر ویزا ٹرانزٹ کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران چین آنے والے غیر ملکی مسافروں کی تعداد تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 20.4 فیصد زیادہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی بڑی وجہ ویزا اور داخلہ پالیسیوں میں نرمی ہے۔
چین آنے والے غیر ملکی مسافروں میں جنوبی کوریا، روس، ملائیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، سنگاپور، امریکا، جاپان، منگولیا اور آسٹریلیا کے شہری سرفہرست رہے۔
چینی حکومت کے مطابق نئی سہولتوں کا مقصد بین الاقوامی روابط کو فروغ دینا اور غیر ملکی شہریوں کے لیے چین کا سفر مزید آسان، تیز اور مؤثر بنانا ہے۔






