زلزلے کے بعد ایک اور قیامت،خوفناک دھماکا

جاپان کے صوبہ کوماموٹو میں 7.1 شدت کے زلزلے کے بعد ایک شاپنگ مال میں گیس لیکیج کے باعث دھماکا ہوا، جس سے عمارت کی دوسری منزل اور چھت کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا۔ متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ کئی افراد لاپتا ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایون کوماموٹو شاپنگ مال زلزلے کے بعد حال ہی میں دوبارہ عوام کے لیے کھولا گیا تھا، تاہم گیس دھماکے کے بعد اسے شدید نقصان پہنچا۔

رپورٹس کے مطابق زلزلے کے فوراً بعد مال کی انتظامیہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 200 افراد اور عملے کے ارکان کو بحفاظت عمارت سے باہر نکال لیا تھا۔

زلزلے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد زور دار دھماکا ہوا، جس سے عمارت کے کئی حصے منہدم ہو گئے اور مال کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔

جاپانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق شاپنگ مال کے 20 سے 30 ملازمین تاحال لاپتا ہیں، جبکہ عینی شاہدین نے دھماکے سے قبل علاقے میں گیس کی بو محسوس ہونے کی اطلاع بھی دی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ آفٹر شاکس کے باعث عمارت غیر محفوظ ہو چکی تھی، جس کے باعث فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کرنا ممکن نہیں تھا۔

یاد رہے کہ یہی شاپنگ مال 2016 میں آنے والے 7.3 شدت کے زلزلے میں بھی شدید متاثر ہوا تھا، جس کے بعد اس کی ازسرنو تعمیر اور توسیع کی گئی تاکہ اسے زلزلہ برداشت کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ رواں سال 13 جون کو تزئین و آرائش کے بعد اسے دوبارہ عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔

زلزلہ جاپان کے مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 27 منٹ پر جزیرہ کیوشو میں آیا، جس کے بعد تقریباً 3 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات اور امدادی پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔ حکام نے مختصر وقت کے لیے سونامی کی وارننگ بھی جاری کی، جسے تقریباً ایک گھنٹے بعد واپس لے لیا گیا۔

close