سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں چیئرمین نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور ممبران کی تنخواہوں کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔
رانا محمود الحسن کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے نیپرا سے تمام آئی پی پیز، ان کے مالکان، بجلی گھروں کی استعداد اور پیداوار سے متعلق تفصیلات طلب کر لیں۔
نیپرا حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ گزشتہ سال آئی پی پیز کو 1149 ارب روپے انرجی چارجز اور 1800 ارب روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے، جبکہ رواں سال اپریل تک 1023 ارب روپے انرجی چارجز اور 1430 ارب روپے کیپیسٹی چارجز ادا کیے جا چکے ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ ساڑھے پانچ برس کے دوران آئی پی پیز کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں مجموعی طور پر 7275 ارب روپے ادا کیے گئے۔
اجلاس میں چیئرمین اور ممبران نیپرا کی تنخواہوں میں ازخود اضافے پر بھی بحث ہوئی۔ سیکریٹری کابینہ ڈویژن نے اس اضافے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کے خصوصی آڈٹ کے لیے آڈیٹر جنرل کو خط لکھ دیا گیا ہے۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ نیپرا لوڈشیڈنگ، گردشی قرضوں میں کمی اور سستی بجلی کی فراہمی جیسے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
سینیٹر عبدالقادر نے مؤقف اختیار کیا کہ نیپرا کی ناقص کارکردگی اور بدانتظامی کے باعث ہر سال تقریباً 1800 ارب روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے جا رہے ہیں۔
اس پر نیپرا حکام نے وضاحت کی کہ ایسا کوئی بھی پاور پلانٹ نہیں جو بجلی پیدا کیے بغیر ادائیگیاں وصول کر رہا ہو۔
اجلاس کے دوران نیپرا حکام نے بتایا کہ چیئرمین نیپرا کی تنخواہ اور الاؤنسز ملا کر ماہانہ 32 لاکھ روپے ہیں، جبکہ سابق قانون کے تحت یہ تنخواہ اور مراعات 11 لاکھ روپے تھیں۔
سیکریٹری کابینہ ڈویژن نے کہا کہ تنخواہوں میں اضافے کی منظوری کابینہ سے لینا ضروری تھی۔






