مظفرآباد (آئی این پی) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے نام لیے بغیر مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لوگ نسل در نسل دھاندلی کی پیداوار ہیں، یہ ہر بار دھاندلی کے ذریعے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بنتے ہیں، پیپلز پارٹی کا مقابلہ کوئی سیاسی جماعت نہیں کر سکتی، ان کا مقابلہ ایسی جماعت سے ہے جو دھاندلی کی پیداوار ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی چوری شدہ ایک ایک سیٹ واپس دلاؤں گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مظفرآباد میں پیپلز پارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آج کا جلسہ دیکھ کر لگتا ہے کہ 2 اگست کو تیر کی جیت پکی ہے، ہم تین نسلوں سے کشمیر کی جدوجہد کو عالمی سطح پر اٹھا رہے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے ن لیگ کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ لوگ دھاندلی کی وجہ سے اقتدار میں آتے ہیں، یہ نسل در نسل دھاندلی کی پیداوار ہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں بھی دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آ جائیں گے، لیکن ہم انہیں کشمیر میں دھاندلی نہیں کرنے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا پہلا وزیراعلیٰ پنجاب بھی دھاندلی کی وجہ سے بنا، ان کا وزیراعظم بھی آر او الیکشن کی وجہ سے بنا، پیپلز پارٹی ان کی دھاندلی کے باوجود اقتدار میں آتی ہے، مظفرآباد میں رہنے والے ان کی سازش کو ناکام بنا دیں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ جہاں عوام کے ووٹ کی طاقت سے ہمیں شکست ہوگی تو ہم اسے دل سے تسلیم کریں گے، لیکن ہم چوری شدہ الیکشن کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔ چوہدری یاسین کی آبائی سیٹ پر 30 پولنگ اسٹیشنز پر قبضہ کرکے ٹھپے لگائے گئے، ہم چوہدری یاسین کی شکست کو قبول نہیں کرتے، میرے پاس 30 پولنگ اسٹیشنز کے ثبوت ہیں۔ اگر الیکشن کمیشن اس دھاندلی میں ملوث نہیں تو جن پولنگ اسٹیشنز پر دھاندلی ہوئی وہاں فوری ری پولنگ کروائی جائے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر کے عوام سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی چوری شدہ ایک ایک سیٹ واپس دلاؤں گا۔ پیپلز پارٹی کشمیر کے عوام کو حق ملکیت دلوانا چاہتی ہے، میں یہ حقوق بندوق کے زور پر نہیں بلکہ الیکشن جیت کر دلاؤں گا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ مظفرآباد ہے، سری نگر نہیں، یہاں دھاندلی نہیں ہونے دیں گے۔ یہ لوگ فارم 47 کی بنیاد پر اقتدار میں بیٹھے ہیں، وفاقی حکومت کی ناکام پالیسیوں کے باعث کشمیری عوام ان سے نفرت کرتے ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ دھاندلی میں ملوث نہیں تو انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرائے۔ اگر سیاسی میدان میں شکست ہوئی تو وہ اسے قبول کریں گے، لیکن چوری شدہ نتائج ہرگز قبول نہیں کریں گے۔
بلاول بھٹو نے اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ سچ اور مفاہمت کمیشن قائم کیا جائے تاکہ تمام حقائق سامنے آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سچ اور مفاہمت کمیشن بن گیا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، احتجاج بھی ختم ہو جائے گا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری ہی کریں گے، کوئی اور صوبہ نہیں کر سکتا۔






