وزیراعظم شہباز شریف کی ایف بی آر کو تاجروں کے مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت

اسلام آباد (آئی این پی): وزیراعظم شہباز شریف نے تاجروں اور کاروباری برادری کے مسائل کے بروقت حل کے لیے چیئرمین ایف بی آر اور سینئر افسران کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی میں موجود رہ کر کاروباری طبقے کے مسائل سنے اور ان کا فوری ازالہ کیا جائے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر اصلاحات سے متعلق ہفتہ وار جائزہ اجلاس میں محصولات میں اضافے، ادارہ جاتی اصلاحات اور ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مختلف شعبوں میں ٹیکس استعداد کے تخمینے کے لیے سائنسی اور جامع طریقہ کار تیار کیا جائے، جبکہ پاور سیکٹر کے تعاون سے غیر رسمی معیشت اور ٹیکس چوری میں ملوث افراد و کاروبار کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

شہباز شریف نے کہا کہ چینی کے شعبے میں ایف بی آر کا ٹریکنگ سسٹم مؤثر ثابت ہوا ہے، جو ادارے کی اصلاحات کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے ٹیکس دہندگان کو قومی سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت آئندہ بھی کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرتی رہے گی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ٹیکسٹائل، مشروبات، اسٹیل، پولٹری، خوردنی تیل، گھی اور ٹائرز کے شعبوں میں پیداواری نگرانی کا ڈیجیٹل نظام دسمبر تک فعال کیا جائے، جبکہ ایف بی آر میں تمام تقرریاں اور تبادلے صرف میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں۔

انہوں نے بہتر کارکردگی دکھانے والے افسران کی فہرست تیار کرنے اور یومِ آزادی پر انہیں اعزازات دینے کی بھی ہدایت کی، جبکہ کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کا فوری تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا حکم بھی دیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں ٹریکنگ سسٹم مکمل طور پر فعال ہے، جبکہ مزید پانچ شعبوں میں اس کا نفاذ آخری مراحل میں ہے، جس سے 700 ارب روپے سے زائد ٹیکس استعداد حاصل ہونے کی توقع ہے۔

حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ ایف بی آر میں افسران کی تربیت بین الاقوامی معیار کے مطابق جاری ہے، شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈیٹرز تعینات کیے جا چکے ہیں، جبکہ ٹیکس مقدمات میں غیر ضروری قانونی چارہ جوئی کم کرنے کے لیے کیس اسکرونٹی کمیٹی بھی قائم کی جا رہی ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزرا، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔