اوٹاوا (آئی این پی): کینیڈا نے پاکستانیوں سمیت دنیا بھر کے شہریوں کے لیے پیرنٹس اینڈ گرینڈ پیرنٹس اسپانسرشپ پروگرام (PGP) کے تحت نئی درخواستوں کا عمل تاحکمِ ثانی عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔
کینیڈین امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ (IRCC) کے مطابق یہ فیصلہ پروگرام میں بڑھتی ہوئی درخواستوں اور پروسیسنگ پر بڑھتے دباؤ کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق تمام نئے درخواست گزاروں پر ہوگا، جبکہ پہلے سے جمع کرائی گئی درخواستوں پر کارروائی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ فی الحال نئے “انٹرسٹ ٹو اسپانسر” فارم قبول نہیں کیے جائیں گے اور نہ ہی نئے ممکنہ اسپانسرز کو درخواست دینے کی دعوت دی جائے گی۔ محکمہ اس وقت اپنی توجہ زیرِ التوا درخواستوں کو نمٹانے پر مرکوز رکھے ہوئے ہے۔
کینیڈین حکومت نے ہدف مقرر کیا ہے کہ 2026 کے دوران اس پروگرام کے تحت زیرِ التوا کیسز میں سے 15 ہزار افراد کو مستقل رہائش (Permanent Residence) کی منظوری دی جائے گی۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پروگرام کی عارضی معطلی کے باوجود والدین یا دادا دادی، نانا نانی کو کینیڈا بلانے کے خواہشمند افراد کے لیے سپر ویزا بدستور دستیاب رہے گا، جس کے ذریعے بزرگ افراد طویل عرصے تک کینیڈا میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ قیام کر سکتے ہیں، اگرچہ اس کے تحت مستقل رہائش نہیں دی جاتی۔
امیگریشن ماہرین کے مطابق کینیڈا میں رہائش، بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولتوں پر بڑھتے دباؤ کے باعث امیگریشن پالیسیوں میں مرحلہ وار سختی کی جا رہی ہے، اور اسپانسرشپ پروگرام کی یہ عارضی معطلی بھی اسی پالیسی کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






