ایران نے امریکی حملوں پر اقوامِ متحدہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر دیا
ایران نے اقوامِ متحدہ کو ایک خط ارسال کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی حملوں میں پلوں، ریلوے اسٹیشنوں اور رہائشی علاقوں سمیت شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ تہران نے مطالبہ کیا ہے کہ ان حملوں کو فوری طور پر روکا جائے اور معاملے پر عالمی سطح پر کارروائی کی جائے۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں ہرمزگان صوبے میں مبینہ امریکی حملوں کی تفصیلات پیش کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، جبکہ شہری املاک اور اہم ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو نشانہ بنانا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
ایران نے خط میں مطالبہ کیا کہ امریکا کو جانی نقصان، زخمیوں، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور دیگر نقصانات کا ذمہ دار قرار دیا جائے۔ تہران نے یہ بھی کہا کہ اگر اقوامِ متحدہ مؤثر کارروائی نہ کرتی ہے تو ایران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایرانی مندوب کے مطابق حالیہ حملوں میں 43 افراد ہلاک ہوئے، جن میں تین خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ایران کے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے الزامات مسترد کر دیے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور بعض ہمسایہ ممالک کو بھی نشانہ بنایا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینٹکام کو ہدایت دی ہے کہ ایران کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو محدود کیا جائے اور ایرانی حکومت کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنایا جائے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حالیہ حملوں میں بندر عباس–رودان شاہراہ پر واقع دو پلوں کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ جاسک شہر میں بجلی کی تنصیبات اور پانی صاف کرنے والے پمپ بھی متاثر ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں متعدد علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ حالیہ حملوں میں شہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت اور آبنائے ہرمز سے متعلق عسکری انفرااسٹرکچر کو محدود کرنا ہے۔ ان متضاد دعوؤں کے باعث تنازع کے مزید شدت اختیار کرنے اور بین الاقوامی قانون سے متعلق نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





