امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی افواج نے مسلسل ساتویں رات ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں خطے میں امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق کارروائیوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔ امریکی فوج نے بتایا کہ آپریشن میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جنگی جہازوں کو استعمال کیا گیا، جبکہ خطے میں 50 ہزار سے زائد امریکی اہلکار ہائی الرٹ پر موجود ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی حملوں میں اہواز، یزد، خارگ جزیرہ، جاسک اور خرم آباد سمیت کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں بجلی اور پانی کی تنصیبات، بندرگاہی سہولیات اور اہم شاہراہوں کو نقصان پہنچا۔ بعض مقامات پر شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرِ ہند میں ایک امریکی جنگی جہاز پر کروز میزائل داغا، جبکہ کویت میں امریکی فوجی تنصیبات اور دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنایا۔ کویتی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائل اور ڈرون فضا میں ہی تباہ کر دیے، تاہم بعض تنصیبات کو نقصان پہنچا اور چند اہلکار زخمی ہوئے۔
اردن کی فوج نے بھی اعلان کیا کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے دس ایرانی میزائل تباہ کر دیے، جبکہ بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ایران کے سینئر رہنما محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو ایران مزید سخت اور وسیع پیمانے پر جوابی کارروائیاں کرے گا۔
ادھر اقوام متحدہ نے ایران میں شہری انفراسٹرکچر پر حملوں اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے پر زور دیا ہے۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں چار فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سعودی عرب نے احتیاطی اقدامات کے تحت بعض علاقوں میں ہنگامی الرٹ جاری کیا، جسے بعد ازاں واپس لے لیا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق ملک میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





