اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ڈڈیال میں ہونے والے تاریخی جلسۂ عام نے آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ جلسے میں عوام کی غیر معمولی شرکت، والہانہ استقبال اور کارکنوں کے بے مثال جوش و خروش نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات میں ایک مرتبہ پھر لینڈ سلائیڈ وکٹری کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ایک مضبوط عوامی قوت کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار کا جو تاریخی نظریہ پیش کیا، اس نے موجودہ انتخابی مہم کی سمت اور ہیئت کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ ان کا یہ بیانیہ کشمیری عوام کے دیرینہ مطالبات، بنیادی حقوق اور روشن مستقبل کی امیدوں کی ترجمانی کرتا ہے، جسے عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کشمیری عوام کو درپیش حقیقی مسائل، نوجوانوں کے روزگار، عوامی حقوق، معاشی ترقی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے واضح مؤقف اور وژن کو پیش کیا۔ ان کے خطاب نے عوام میں ایک نئی امید اور اعتماد پیدا کیا ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ پیپلز پارٹی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور خوشحالی کے لیے عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آج کوٹلی میں ہونے والا جلسہ عام بھی اسی عوامی جوش و جذبے کا تسلسل ہوگا۔ آج کوٹلی میں منعقد ہونے والے عظیم الشان جلسۂ عام میں بھی وہی فاتحانہ انداز دیکھنے کو ملنے کی توقع ہے، جہاں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایک مرتبہ پھر کشمیری عوام سے تاریخی خطاب کریں گے۔ کوٹلی کا جلسہ عوامی امنگوں، خواہشات اور مستقبل کے خوابوں کا حقیقی ترجمان ثابت ہوگا۔
ادھر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق ڈڈیال کے تاریخی جلسے کے بعد کوٹلی میں بھی عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اس بات کا ثبوت ہوگا کہ کشمیری عوام بلاول بھٹو زرداری کے وژن، حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار کے نظریے پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تیر پر مہر لگا کر پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک مرتبہ پھر عوامی خدمت کا موقع فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ انتخاب صرف اقتدار کا نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حقوق، بااختیار مستقبل اور ترقی و خوشحالی کے سفر کا انتخاب ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






