تجارت کا فروغ اور کاروباری آسانیاں حکومت کی اولین ترجیحات ، وزیراعظم کا اہم بیان

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے اور تجارت کے فروغ کیلئے پرعزم ہے، جبکہ تجارت میں آسانی اور کاروباری سرگرمیوں کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم کی زیرصدارت ٹریڈ فیسلی ٹیشن بورڈ کے پہلے اجلاس میں تجارت سے متعلق طریقہ کار میں موجود رکاوٹیں دور کرنے، کاروباری لاگت کم کرنے، برآمدات بڑھانے اور پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک تیزی سے پہنچانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تجارتی تاخیر ختم، کاروباری لاگت کم اور برآمدات میں اضافے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارت میں سہولت کاری کے ذریعے پاکستان کو عالمی سپلائی چینز کا مؤثر حصہ بنایا جائے گا اور بڑی بندرگاہوں پر تمام متعلقہ ادارے کاروباری برادری کو ایک ہی مقام پر سہولیات فراہم کریں۔

وزیراعظم نے اداروں کی مشترکہ جانچ اور پروفائلنگ کا نظام بہتر بنانے، تمام نان ٹیرف اقدامات کا جامع آڈٹ کرنے اور غیرضروری تجارتی رکاوٹیں ختم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے پاکستانی بندرگاہوں کیلئے براہ راست شپنگ لائنز لانے، قومی تجارتی کارکردگی انڈیکس تیار کرنے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کا تجارت میں حصہ بڑھانے کیلئے خصوصی اقدامات کی بھی ہدایت کی۔ شہباز شریف نے رسک مینجمنٹ نظام مزید مؤثر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف ہائی رسک کارگو کی تفصیلی جانچ کی جائے جبکہ کم خطرے والے کارگو کی کلیئرنس کا عمل تیز کیا جائے۔ انہوں نے تجارتی عمل کو مزید تیز اور مؤثر بنانے کیلئے مصنوعی ذہانت سے استفادہ کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک پری ارائیول کلیئرنس کا ہدف 30 فیصد اور گرین چینل کا حصہ 65 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مجاز اقتصادی آپریٹرز کی تعداد 50 سے زائد کرنے کا ہدف بھی طے کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے تمام بندرگاہوں کیلئے ٹائم ریلیز آٹومیٹڈ سسٹم کے اہداف کی منظوری دے دی، جبکہ نان ٹیرف اقدامات کے جائزے کیلئے ایک ورکنگ گروپ بھی قائم کردیا گیا ہے جسے ایک ماہ میں روڈ میپ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ غیرضروری قواعد کے خاتمے، تجارتی عمل کو آسان، تیز اور شفاف بنانے اور حکومتی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا اور پاکستانی مصنوعات کیلئے عالمی منڈیوں تک رسائی مزید بہتر بنائی جائے گی۔