یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی جاری، آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش کا خدشہ

یمن میں حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی ہے اور حوثیوں کی پیش قدمی جاری ہے۔ یمنی فوج نے عالمی برادری سے حوثیوں کے خلاف کارروائی میں حمایت کی اپیل کی ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق حوثی جنگجو ایک اہم اسٹریٹجک گزرگاہ کے قریب پہنچ گئے ہیں اور ساحلی شہر المخا پر کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد باب المندب کی بندش کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے یمن کے مغربی صوبے تعز میں بعض اہم علاقوں کے علاوہ الخالد اور جبل النصر کے فوجی اڈوں پر بھی قبضہ کرلیا ہے، جبکہ ان کی پیش قدمی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں واقع المخا بندرگاہ کے داخلی حصوں تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حوثیوں نے المخا ایئرپورٹ پر قبضہ کرلیا ہے اور مزاحمت کرنے والے متعدد عناصر نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

باب المندب دنیا کی اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے تیل، گیس، غذائی اجناس اور دیگر اشیا سمیت عالمی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ یمن میں حوثیوں کی ساحلی علاقوں کی جانب پیش قدمی، سعودی عرب پر حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث تنازع کے وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں اہم بحری راستے کشیدگی کی زد میں ہیں۔