!وزیراعظم شہباز شریف کا ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ایکشن

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ان کے حالیہ دورۂ چین کے دوران منعقد ہونے والی پاکستان۔چین بزنس ٹو بزنس (B2B) کانفرنس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبوں کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون کے فروغ سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ہانگژو میں منعقدہ B2B کانفرنس کے دوران طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کو جلد از جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے اس سلسلے میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ماہانہ اجلاس کی خود صدارت کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

وزیراعظم نے مزید ہدایت دی کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پارک) کے درمیان تعاون کو عملی شکل دی جائے تاکہ زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور پاک۔چین مشترکہ منصوبوں کے ذریعے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جا سکے۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 24 مئی کو ہانگژو میں منعقد ہونے والی پاکستان۔چین B2B کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

بریفنگ کے مطابق بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، موبائل فونز اور ہینڈ ہیلڈ ڈیوائسز کے شعبوں میں تعاون کے معاہدے طے پائے، جبکہ کھاد، بیج، جدید آبپاشی آلات، فشریز اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں میں بھی وسیع تعاون پر اتفاق کیا گیا۔

مزید برآں بایو ٹیکنالوجی، ویکسین سازی اور دیگر جدید صنعتی شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے بھی متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

اجلاس میں وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، احد خان چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close