برطانوی لگژری کار ساز کمپنی ایسٹن مارٹن نے اپنی تاریخ کی سب سے طاقتور فرنٹ انجن گاڑی متعارف کرا دی ہے۔ ’ویلن‘ نامی یہ محدود تعداد میں تیار کی جانے والی V12 سپر کار طاقت، رفتار اور جدید انجینئرنگ کا شاندار امتزاج پیش کرتی ہے۔
ویلن کو Q by Aston Martin اور کمپنی کی خصوصی انجینئرنگ ٹیم نے تیار کیا ہے۔ گاڑی کی تیاری میں صرف زیادہ طاقت حاصل کرنے کے بجائے وزن کم کرنے، بہتر ایروڈائنامکس اور ڈرائیونگ کے تجربے کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے۔
850 ہارس پاور
ویلن میں 5.2 لیٹر ٹوئن ٹربو V12 انجن نصب ہے جو 850 PS، یعنی تقریباً 838 ہارس پاور پیدا کرتا ہے۔ انجن زیادہ سے زیادہ 1,000 نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرتا ہے اور اس کی تمام طاقت پچھلے پہیوں تک پہنچتی ہے۔
گاڑی میں خصوصی طور پر ٹیون کیا گیا 8 اسپیڈ ZF آٹومیٹک گیئر باکس استعمال کیا گیا ہے، جبکہ اس کے گیئر شفٹ سسٹم کو Aston Martin کی Vantage GT4 ریس کار سے متاثر ہوکر مزید بہتر بنایا گیا ہے۔
345 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار
ویلن کی زیادہ سے زیادہ رفتار 345 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ صفر سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تقریباً 3 سیکنڈ میں حاصل کرنے کا اندازہ ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی اعداد و شمار ابھی منظوری کے مراحل میں ہیں۔
کار میں 21 انچ کے فورجڈ میگنیشیم وہیلز اور کاربن سیرامک بریکس نصب کیے گئے ہیں، جو تیز رفتار ڈرائیونگ کے دوران بہتر گرفت اور کنٹرول فراہم کرتے ہیں۔
گاڑی کو عام V12 پلیٹ فارم کے مقابلے میں نمایاں طور پر ہلکا رکھنے کے لیے کاربن فائبر باڈی، ٹائٹینیم ایگزاسٹ اور میگنیشیم وہیلز جیسے ہلکے اجزا استعمال کیے گئے ہیں۔ ریئر سب فریم، اسپرنگز، اڈاپٹیو ڈیمپرز اور اسٹیئرنگ کو بھی نئے سرے سے ٹیون کیا گیا ہے۔
منفرد اور جارحانہ ڈیزائن
ویلن کا بیرونی ڈیزائن اسے Aston Martin کے دیگر ماڈلز سے نمایاں کرتا ہے۔ سامنے کم اونچائی والا بونٹ، بڑی گرِل اور وہیل آرچز سے ہوا خارج کرنے والے فنکشنل وینٹس دیے گئے ہیں۔
پچھلے حصے میں روایتی بڑے ریئر ونگ کے بجائے گاڑی کی بلند ہوتی ہوئی ٹیل کو ایروڈائنامک انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے۔ فل وِڈتھ لائٹ بار اور بڑے ڈفیوزر اس کی اسپورٹی شخصیت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔
اس کی خاص خصوصیات میں چار عمودی ٹائٹینیم ایگزاسٹ آؤٹ لیٹس بھی شامل ہیں، جو گاڑی کو ایک منفرد ظاہری انداز دیتے ہیں۔
لگژری اور اسپورٹس کا امتزاج
ویلن کے اندرونی حصے میں اسپورٹس کار کی خصوصیات کے ساتھ لگژری کا بھی بھرپور خیال رکھا گیا ہے۔ Sport Plus سیٹس پر لیدر اور Alcantara استعمال کی گئی ہے، جبکہ خریدار مونوٹون، ڈو ٹون اور ٹرائی ٹون انٹیریئر تھیمز میں سے انتخاب کرسکیں گے۔
مرکزی کنسول میں تھری ڈی پرنٹڈ تفصیلات شامل ہیں، جبکہ اہم کنٹرولز کے لیے روایتی فزیکل سوئچز بھی موجود ہیں۔
انفوٹینمنٹ کے لیے دو 10.25 انچ ڈسپلے، وائرلیس Apple CarPlay Ultra اور Android Auto فراہم کیے گئے ہیں۔ موسیقی کے شوقین افراد کے لیے 15 اسپیکرز پر مشتمل 1,170 واٹ کا Bowers & Wilkins ساؤنڈ سسٹم بھی موجود ہے۔
صرف 150 گاڑیاں
ویلن کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی انتہائی محدود پیداوار ہے۔ Aston Martin دنیا بھر میں اس سپر کار کے صرف 150 یونٹس تیار کرے گی، جس کے باعث یہ عام خریدار کے بجائے کلیکٹرز کے لیے ایک خاص گاڑی بن گئی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ویلن کی قیمت تقریباً 20 لاکھ امریکی ڈالر سے شروع ہوسکتی ہے، جبکہ صارفین کو گاڑیوں کی فراہمی 2027 کی دوسری سہ ماہی سے متوقع ہے۔
ویلن میں Aston Martin نے صرف طاقت بڑھانے کے بجائے وزن، ایروڈائنامکس، کارکردگی اور ڈرائیونگ کے احساس پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ V12 انجن، ریئر وہیل ڈرائیو، کاربن فائبر باڈی، میگنیشیم وہیلز اور ٹائٹینیم ایگزاسٹ اسے کمپنی کی تاریخ کی انتہائی خاص فرنٹ انجن سپر کاروں میں شامل کرتے ہیں۔






