یوٹیوب نے کمائی کا قانون مزید سخت کر دیا، واچ ٹائم کی شرط دگنی

یوٹیوب نے نئے کریئیٹرز کے لیے اپنے پلیٹ فارم سے اشتہارات اور یوٹیوب پریمیم کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے کی شرائط مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت نئے کریئیٹرز کو یوٹیوب پارٹنر پروگرام میں شامل ہوکر مکمل مونیٹائزیشن حاصل کرنے کے لیے پہلے کے مقابلے میں دگنے واچ آورز یا شارٹس ویوز حاصل کرنا ہوں گے۔

یہ نئی شرائط یکم فروری 2027 سے نئے درخواست گزاروں پر لاگو ہوں گی۔ اس کے بعد اشتہارات اور یوٹیوب پریمیم کی آمدنی میں حصہ لینے کے لیے گزشتہ 365 دنوں میں 8 ہزار اہل واچ آورز یا گزشتہ 90 دنوں میں 2 کروڑ اہل یوٹیوب شارٹس ویوز درکار ہوں گے۔ اس سے پہلے یہ حد 4 ہزار واچ آورز یا ایک کروڑ شارٹس ویوز تھی، جبکہ کم از کم ایک ہزار سبسکرائبرز کی شرط برقرار رہے گی۔

یوٹیوب کے مطابق اس تبدیلی کی وجہ پلیٹ فارم پر ویڈیوز اور شارٹس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یوٹیوب پر روزانہ تقریباً 200 ارب شارٹس ویوز حاصل ہوتے ہیں، جبکہ صارفین ہر روز ٹی وی پر یوٹیوب کا مواد دیکھنے میں ایک ارب سے زیادہ گھنٹے صرف کرتے ہیں۔

جو کریئیٹرز پہلے ہی یوٹیوب پارٹنر پروگرام کا حصہ ہیں، ان پر نئے 8 ہزار واچ آورز یا 2 کروڑ شارٹس ویوز کے معیار کا اطلاق نہیں ہوگا۔

تاہم شارٹس سے آمدنی حاصل کرنے والے نئے اور موجودہ دونوں کریئیٹرز کے لیے ایک الگ شرط متعارف کرائی گئی ہے۔ یکم فروری سے شارٹس کے اشتہارات اور سبسکرپشن آمدنی میں حصہ جاری رکھنے کے لیے ہر 90 دن میں کم از کم ایک کروڑ اہل شارٹس ویوز حاصل کرنا ہوں گے۔

اگر کسی چینل کے شارٹس ویوز اس حد سے کم ہوجاتے ہیں تو چینل یوٹیوب پارٹنر پروگرام سے باہر نہیں ہوگا اور لمبی ویڈیوز سے کمائی جاری رکھ سکے گا، تاہم شارٹس سے آمدنی اس وقت تک رک جائے گی جب تک دوبارہ مقررہ حد پوری نہ ہوجائے۔

یوٹیوب نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کم شارٹس ویوز رکھنے والے کریئیٹرز کے لیے آمدنی کے دیگر ذرائع کو فروغ دیا جائے گا، جن میں یوٹیوب شاپنگ کے بونس، برانڈ ڈیلز کے لیے مراعات اور نئے ٹرینڈز کو مقبول بنانے پر اضافی آمدنی شامل ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب یوٹیوب پارٹنر پروگرام کے ابتدائی درجے کی شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس کے تحت 500 سبسکرائبرز، گزشتہ 90 دنوں میں کم از کم تین عوامی ویڈیوز اور 3 ہزار اہل واچ آورز یا 30 لاکھ شارٹس ویوز حاصل کرنے والے کریئیٹرز فین فنڈنگ اور شاپنگ جیسے فیچرز استعمال کرسکتے ہیں۔

یوٹیوب نے پریمیم لائٹ سروس کو بھی ان تمام ممالک تک توسیع دینے کا اعلان کیا ہے جہاں یوٹیوب پریمیم دستیاب ہے۔ کمپنی کے مطابق پریمیم صارفین سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ کریئیٹرز میں تقسیم کیا جائے گا۔

کمپنی کے مطابق آپریٹنگ، تشہیری اور میوزک پارٹنرز کے اخراجات نکالنے کے بعد یوٹیوب پریمیم کی خالص سبسکرپشن آمدنی کا 30 فیصد جبکہ پریمیم لائٹ کی آمدنی کا 60 فیصد کریئیٹرز کے لیے مختص کیا جائے گا۔ یہ رقم صارفین کے دیکھنے کے وقت اور ویوز کی بنیاد پر تقسیم ہوگی، جس میں لمبی ویڈیوز کے لیے 55 فیصد اور شارٹس کے لیے 45 فیصد حصہ مقرر کیا گیا ہے۔

یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اسے توقع ہے کہ 2027 میں کریئیٹرز کو 2026 کے مقابلے میں مجموعی طور پر زیادہ رقم ادا کی جائے گی۔ نئی پالیسی کا بنیادی اثر نئے کریئیٹرز پر ہوگا، جنہیں مونیٹائزیشن شروع کرنے کے لیے پہلے کے مقابلے میں زیادہ واچ ٹائم اور ناظرین حاصل کرنا ہوں گے۔