ناکامیوں کے بعد فارم میں واپسی کا کریڈٹ کس کو دے دیا؟ عبداللہ شفیق

لیڈز (آن لائن) پاکستان کے اوپننگ بیٹر عبداللہ شفیق نے ریڈ بال کرکٹ میں اپنی فارم کی واپسی کا کریڈٹ پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ٹو کرکٹ کو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ٹورنامنٹ نے انہیں موجودہ مقام تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا۔

عبداللہ شفیق نے کہا کہ پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ٹو نے انہیں آگے بڑھنے میں بہت مدد دی، انہوں نے اپنی ٹیم کو گریڈ ون کرکٹ کے لیے کوالیفائی کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ گریڈ ٹو ٹورنامنٹ کے دوران وہ ٹیم سے تقریباً دو گھنٹے پہلے گراؤنڈ پہنچ کر بیٹنگ پریکٹس کرتے تھے۔ ان کے مطابق اگر انسان اپنے مقصد کے لیے سنجیدہ ہو اور سخت محنت کرے تو اس کا صلہ ضرور ملتا ہے۔

عبداللہ شفیق نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے اٹیک کا انہوں نے کوئی دباؤ نہیں لیا بلکہ اسپنر جومیل واریکن کو ہدف بنایا تھا کہ انہیں سیٹ ہونے کا موقع نہیں دینا۔

انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے حوالے سے عبداللہ شفیق نے کہا کہ وہ لیڈز ٹیسٹ کے لیے پُراعتماد ہیں کیونکہ گزشتہ سیزن میں یارکشائر کی جانب سے چار روزہ میچ کھیل چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہوم سیریز میں بھی انگلینڈ کا سامنا کرچکے ہیں، تاہم اوے سیریز ایک چیلنج ہوگی۔

این بشپ کی جانب سے ’’کتابی پلیئر‘‘ کہے جانے پر عبداللہ شفیق نے کہا کہ یہ ان کے لیے قابلِ فخر بات ہے، جب کوئی بڑا کھلاڑی ایسی بات کہتا ہے تو خوشی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے کتابی شاٹس والد اور انکل کی سخت محنت کا نتیجہ ہیں۔ آج کل کے نوجوان اتنی محنت نہیں کرتے جتنی انہوں نے اپنے کتابی شاٹس کو بہتر بنانے کے لیے کی ہے۔