وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں پٹرولیم ضروریات کے حوالے سے صورتحال قابو میں ہے اور نومبر کی ضروریات کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ ستمبر تک پاکستان کی پٹرولیم ضروریات مکمل طور پر محفوظ ہیں، جبکہ اکتوبر میں بھی صورتحال بہتر نظر آرہی ہے۔ نومبر کی ضروریات کی منصوبہ بندی وزارت پٹرولیم اور متعلقہ ادارے کر رہے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ خطے میں جاری تنازع کے باوجود خلیجی ممالک سے پاکستان آنے والی ترسیلات زر میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ مالی سال برطانیہ سے 6.9 ارب ڈالر جبکہ مجموعی طور پر 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔ رواں مالی سال مجموعی ترسیلات زر تقریباً 44 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق اپریل سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں ماہانہ 30 کروڑ ڈالر سے زائد کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اب امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری پر توجہ دے رہا ہے، جبکہ برطانیہ کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری روابط بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ گزشتہ سال پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ سروسز 4.6 ارب ڈالر رہیں، جن میں فری لانسرز کا حصہ 1.6 ارب ڈالر تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نوجوانوں کو صرف سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کے بجائے ایسا ماحول دینا چاہتی ہے جہاں کنیکٹیویٹی، تعلیم، اپ اسکلنگ اور ری اسکلنگ کے مواقع دستیاب ہوں۔ فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے بھی نوجوانوں کو بہتر کنیکٹیویٹی کی سہولت ملے گی۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ عالمی عوامل، خصوصاً پٹرولیم قیمتیں، مہنگائی پر اثرانداز ہورہی ہیں، جبکہ منافع خوری کی روک تھام کے لیے ضلعی اور صوبائی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جائیں گے۔






