سانحہ پمز کی ابتدائی انکوائری رپورٹ میں اہم سفارشات سامنے آگئیں

سانحہ پمز کی ابتدائی انکوائری رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی، جس میں ہسپتال کے انتظامی معاملات اور افسران کی مبینہ غفلت سے متعلق اہم سفارشات شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر عمران سکندر سمیت 10 اعلیٰ افسران اور متعلقہ عملے کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فہرست میں پانچ اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی نے متعلقہ افسران کو غفلت اور لاپرواہی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں موجودہ قائم مقام سیکرٹری صحت کیپٹن (ر) محمود کی سفارشات بھی شامل کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پمز کو غیر پیشہ ورانہ انداز میں اور مؤثر انتظامی ڈھانچے کے بغیر چلایا جا رہا تھا، جبکہ ہسپتال کے انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے عہدوں سے ہٹائے جانے والے افسران کی جگہ پیشہ ور افراد تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے پمز کے لیے باقاعدہ گورننگ بورڈ تشکیل دینے کی بھی سفارش کی ہے تاکہ ملک کے بڑے سرکاری ہسپتال کی مؤثر نگرانی اور انتظامی امور چلانے کے لیے ایک مستقل انتظامی ڈھانچہ موجود ہو۔