سانحہ پمز کی ابتدائی رپورٹ تیار ، اہم انکشافات

اسلام آباد کے پمز اسپتال کے گائناکولوجی وارڈ کی نرسری میں پیش آنے والے دلخراش آتشزدگی کے واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے، جس میں آگ لگنے کی ممکنہ وجہ سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق آتشزدگی ایئر کنڈیشن کے کمپریسر پھٹنے یا الیکٹرک شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں ہوئی، بلکہ انکیوبیٹر کے ساتھ منسلک آکسیجن کی مقدار جانچنے والے نیبولائزر کے پھٹنے سے آگ بھڑکی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیبولائزر پھٹنے کے بعد آکسیجن نے فوری طور پر آگ پکڑ لی۔ ابتدا میں آگ کی شدت کم تھی، تاہم آکسیجن کی موجودگی کے باعث شعلے تیزی سے پھیل گئے۔

آتشزدگی کے نتیجے میں نرسری میں شدید دھواں بھر گیا، جو پائپ کے ذریعے نومولود بچوں کے سانس کے نظام میں داخل ہوا۔ رپورٹ کے مطابق آکسیجن کی فراہمی متاثر ہونا بھی بچوں کی اموات کی ایک اہم وجہ بنا۔

پمز واقعے کے بعد وفاقی حکومت نے سخت اقدامات کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے معطل کردیا تھا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی بھی معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

دوسری جانب سی ڈی اے فائر بریگیڈ کی رپورٹ اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر کے بیانات میں بھی اختلاف سامنے آیا تھا۔ ای ڈی پمز کے مطابق اسپتال میں فائر سیفٹی کا مناسب نظام موجود تھا اور عملے نے بچوں کو بچانے کی بھرپور کوشش کی، جبکہ سی ڈی اے کی رپورٹ میں فائر سیفٹی انتظامات کو ناقص قرار دیا گیا تھا۔

ابتدائی رپورٹ کے بعد انتظامیہ اور تحقیقاتی ٹیمیں واقعے کے مزید فنی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں۔