سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے پمز واقعے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم بچوں کی روحیں سوال کر رہی ہیں کہ انہیں کس جرم میں قتل کیا گیا۔
پمز ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ان بچوں کا جرم صرف پاکستان میں پیدا ہونا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی ہلاکت کا واقعہ ناقابل برداشت صدمہ ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر لوہے کی اشیا جل گئی ہیں تو بچوں کا کیا بنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور سوال یہ ہے کہ اس واقعے کو کیسے چھپایا جائے گا۔
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان میں ظلم بہت بڑھ چکا ہے اور حکمران اس واقعے کے لیے جواب دہ ہوں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ لوگ نجی ہسپتالوں کا رخ کیوں کرتے ہیں، جبکہ حکمران اپنا علاج خود نجی ہسپتالوں میں کرواتے ہیں۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ صرف سیکرٹری صحت کا استعفیٰ قابل قبول نہیں، ذمہ دار حکام کو مستعفی ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب جنگ ہمارے ملک کے اندر آگئی ہے۔






