لاہور: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے ہونے والی ملاقاتوں میں نہ کوئی چیز پکائی جارہی ہے اور نہ ہی کچھ پک رہا ہے، سیاستدان آپس میں بیٹھتے ہیں تو مسائل کا راستہ نکلتا ہے اور حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے۔
ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہ، اسحاق ڈار اور طارق فضل چوہدری بیرسٹر گوہر کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کے لیے گئے تھے۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے ان سے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں ملاقات کی خواہش ظاہر کی، جس پر وہ وزیر قانون اور طارق فضل چوہدری کے ہمراہ وہاں گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں اس بات پر گفتگو ہوئی کہ اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان کے درمیان رابطہ اور ملاقات ہونی چاہیے۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق اپوزیشن لیڈر نے آئینی تقرری کے لیے وزیراعظم کو خط لکھا ہے اور وزیراعظم انہیں ملاقات کی دعوت دینے والے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر کو وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات پر تحفظات تھے، جس پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس حکومت کی ذاتی ملکیت نہیں، اگر کسی اور مقام پر ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو آگاہ کریں۔ ان کے مطابق ممکن ہے اپوزیشن لیڈر پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم سے ملاقات کی تجویز دیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر جس موضوع پر بات کرنا چاہیں، وزیراعظم کی جانب سے کوئی قدغن نہیں ہوگی۔ ملاقات ہوگی تو راستہ نکلے گا، سیاستدان بیٹھتے ہیں تو مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے پاس حل موجود ہے اور ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تحریک انصاف نے 27 ستمبر کا الٹی میٹم دے رکھا ہے اور ایک طرف 20 لاکھ افراد کو اسلام آباد لانے کی بات کی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف ملاقات کی خواہش بھی ظاہر کی جارہی ہے۔ ملاقات میں یہ بات بھی ہوگی کہ پی ٹی آئی کا آئندہ رویہ کیا ہوگا۔
نئے صوبوں سے متعلق کوئی تجویز آئی تو حکومت بات کرے گی
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ صوبوں کے حوالے سے کوئی تجویز حکومت کے سامنے رکھتی ہے تو اس پر بات کی جائے گی۔ کسی معاملے پر اتفاق رائے ہوا تو حکومت اپنا مؤقف سامنے لے کر آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کے قیام پر بحث ہونا کوئی جرم نہیں بلکہ کسی بھی معاشرے میں بحث ایک اچھی چیز ہے۔ آئین میں بھی صوبے بنانے کی گنجائش موجود ہے۔ اگر نئے صوبوں کے لیے ریفرنڈم کی ضرورت ہوگی تو یہ معاملہ کابینہ میں زیر بحث لایا جائے گا۔
26ویں ترمیم اچانک نہیں آئی، ڈیڑھ ماہ مذاکرات ہوئے: رانا ثنا اللہ
رانا ثنا اللہ نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا احترام کرتے ہیں، تاہم انہوں نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے حوالے سے دو باتیں مبہم انداز میں کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم اچانک نہیں آئی، حکومت تقریباً ڈیڑھ ماہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مذاکرات کرتی رہی۔ ترمیم میں ابتدا میں 56 ترامیم تھیں، بعد ازاں 12، 13 نکات پر اتفاق ہوا۔
ان کے مطابق آئینی بینچ کی تجویز پی ٹی آئی کی جانب سے آئی تھی جس پر اتفاق کیا گیا، جبکہ 26ویں آئینی ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں بھی آئینی عدالت کا ذکر موجود تھا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ماضی میں ازخود نوٹس کے اختیارات کے استعمال سے وزرائے اعظم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 26ویں ترمیم کے لیے حکومت کے پاس مطلوبہ ووٹ پورے نہیں تھے، تاہم اتفاق رائے کے ذریعے ترمیم منظور کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں ترمیم میں جو معاملات رہ گئے تھے، انہیں 27ویں ترمیم میں مکمل کیا گیا۔
مصطفیٰ کمال کا مسئلہ نئے صوبے نہیں، کراچی ہے: رانا ثنا اللہ
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کو نئے صوبوں کے معاملے میں غلط فہمی ہوئی ہے، ان کا بنیادی مسئلہ کراچی ہے۔ ان کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان بااختیار بلدیاتی نظام چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مصطفیٰ کمال کابینہ میں نئے صوبوں کے حوالے سے بات کریں گے تو اس پر غور کیا جائے گا۔ صوبوں کی بات کرنا کوئی جرم نہیں، کیونکہ آئین میں نئے صوبوں کے قیام کی گنجائش موجود ہے۔






