کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ قلات سے کوئٹہ واپسی کے دوران ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی، جبکہ مسلح افراد کے حملے میں 5 اہلکار زخمی ہوئے۔
وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے بتایا کہ وہ جشن آزادی کی تقریبات میں شرکت کے لیے اپنے حلقے قلات گئے تھے، جہاں تمام اداروں کے ساتھ میٹنگز بھی ہوئیں۔ انہوں نے جشن آزادی کے موقع پر سکیورٹی انتظامات پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے بھرپور انداز میں جشن آزادی منایا۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ وہ قلات سے کوئٹہ واپسی کے دوران بغیر اسکواڈ کے سفر کر رہے تھے کہ ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ اس موقع پر پولیس کے جوانوں نے مسلح افراد کا مقابلہ کیا، جبکہ پولیس کی ایک گاڑی بھی مسلح افراد کے گھیرے میں تھی۔
وزیر داخلہ بلوچستان نے کہا کہ مستونگ میں ایف سی، اے ٹی ایف اور پولیس نے بروقت کارروائی کی، تاہم مسلح افراد کے حملے میں 5 اہلکار زخمی ہوئے۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ بلوچستان کے عوام بہت کچھ برداشت کرچکے ہیں، دہشتگرد کسی حقوق یا آزادی کی جنگ نہیں لڑ رہے۔ دہشتگردوں کی قیادت یرغمال ہے، جبکہ دہشتگردوں کی پشت پناہی بھارت اور افغانستان سے کی جارہی ہے۔
وزیر داخلہ بلوچستان نے مزید کہا کہ دہشتگرد خواتین کی تذلیل کرتے ہیں۔ اس موقع پر پریس کانفرنس میں معاون وزیر داخلہ بابر یوسفزئی بھی موجود تھے۔






