اسلام آباد: جماعت اسلامی نے 16 اگست سے ملک بھر میں بیک وقت دھرنوں کا اعلان کردیا، جبکہ لاہور، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں بڑے احتجاجی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی زیر صدارت دھرنوں کے حوالے سے خصوصی اجلاس ہوا، جس میں نائب امرا لیاقت بلوچ، اسامہ رضی، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ سمیت دیگر مرکزی رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ تمام صوبوں اور بڑے شہروں کے امرا نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں یوم آزادی کی تقریبات بھرپور انداز میں منانے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے باعث 9 اگست کے بجائے 16 اگست سے دھرنے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 16 اگست کو چاروں صوبوں میں بیک وقت دھرنے دیے جائیں گے۔ لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جبکہ خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے ہوں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکمرانوں کو جبر اور ظلم کا سلسلہ بند کرنا ہوگا، دھرنوں کے ذریعے حکومت کو مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کریں گے۔ ان کے مطابق گزشتہ روز ملک بھر میں 510 مقامات پر منظم مظاہرے کیے گئے، جن کے ذریعے پٹرول کی قیمت کم کرنے اور لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے خلاف آواز اٹھائی تو حکمرانوں سے اپنے مطالبات منوائے۔
دوسری جانب انہوں نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دشمنوں پر انحصار ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے دفاعی معاہدے میں قطر، بنگلا دیش، ایران، ملائیشیا اور انڈونیشیا کو بھی شامل کرنے کی تجویز دی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تمام اسلامی ممالک اس معاہدے کا حصہ بنیں تو ایک مضبوط اسلامی بلاک تشکیل دیا جاسکتا ہے۔






