کراچی: شہر قائد میں قتل ہونے والے تاجر میر رضا علی کیس کی دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی، جس کے مطابق مقتول کو گولی پیچھے سے لگی، جبکہ جسم پر تشدد اور متعدد فریکچر کے واضح شواہد بھی ملے ہیں۔
میر رضا علی کی دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میت گلنے سڑنے کے ایڈوانس مرحلے میں تھی اور جسم پر کیڑے موجود تھے۔
رپورٹ میں موت اور پوسٹ مارٹم کے درمیان تقریبا 12 دن کا وقفہ بتایا گیا ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کھوپڑی کے دائیں حصے میں گہرے زخم اور مختلف حصوں میں فریکچر کی نشاندہی کی گئی، جبکہ کھوپڑی میں کئی مقامات پر جما ہوا خون بھی موجود تھا۔ دائیں ہِپ بون میں 12 سینٹی میٹر کا فریکچر بھی رپورٹ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اوپری جبڑے کے چار دانت متاثر ہوئے، جبکہ دائیں جانب چھٹی پسلی کئی ٹکڑوں میں ٹوٹی ہوئی تھی۔ بائیں پھیپھڑے کے قریب موجود حصے میں بھی جما ہوا خون پایا گیا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سینے پر فائر آرم کے داخلی زخم کی نشاندہی کی گئی، جس کا سائز 0.8 سینٹی میٹر تھا۔ زخم کے اطراف سیاہ نشانات بھی موجود تھے۔ گولی دل کو متاثر کرتے ہوئے بائیں جانب سینے سے باہر نکلی، جہاں خارجی زخم کا سائز 1.5 بائی 1.2 سینٹی میٹر بتایا گیا ہے۔
رپورٹ میں دل پر دو گول زخم اور اس کے پچھلے حصے میں سیاہ پٹھوں کے آثار بھی ملنے کا ذکر ہے۔ مقتول کے جسم پر موجود موت سے قبل لگنے والی چوٹیں تھیں اور زخموں پر خون کے اخراج کے شواہد بھی موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق مقتول کے سر، ناک، کھوپڑی، پسلیوں اور پائوں پر بھی چوٹوں اور تشدد کے نشانات پائے گئے، جبکہ جسم پر کالے دھبوں کی بھی نشاندہی ہو






