جنگ نہیں چاہتے مگر پانی روکا گیا تو خاموش نہیں رہیں گے، سعید غنی

کراچی: وزیر محنت، افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی نے کہا ہے کہ دریائے سندھ کا پانی صرف سندھ یا کراچی کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی زندگی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

بھارتی آبی جارحیت کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی کی جانب سے “مرسوں مرسوں، سندھو نہ ڈیسوں” ریلی نکالی گئی، جو سندھ اسمبلی سے کراچی پریس کلب تک گئی۔ ریلی کی قیادت سعید غنی نے کی، جبکہ بڑی تعداد میں پارٹی رہنماؤں، کارکنوں اور شہریوں نے شرکت کی۔

کراچی پریس کلب کے باہر خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ پاکستان کے عوام کے پینے کا پانی اور زرعی ضروریات کا بڑا حصہ دریائے سندھ سے وابستہ ہے، اس لیے یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم طے کی گئی تھی، جس میں ورلڈ بینک ثالث ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے میں یکطرفہ طور پر تبدیلی یا معطلی کی کوئی گنجائش نہیں، بلکہ کسی بھی تبدیلی کے لیے دونوں ممالک کی رضامندی ضروری ہے۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ 1965 اور 1971 کی جنگوں کے باوجود بھی سندھ طاس معاہدہ برقرار رہا، اس لیے بھارت کے پاس اسے معطل کرنے کا قانونی یا اخلاقی جواز موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور جنگ کو کسی مسئلے کا حل نہیں سمجھتا، تاہم اگر پانی روک کر عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا گیا تو پاکستانی قوم خاموش نہیں بیٹھے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی آبی جارحیت کے خلاف پورے ملک کے عوام متحد ہیں اور دنیا کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close