خبردار!!! ہرگز استعمال نہ کریں ، 3 بڑی کمپنیوں کی سرنجز سے متعلق الرٹ جاری

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے 3 بڑی کمپنیوں کی سرنجز کے 5 بیچز کی فروخت اور استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں غیر معیاری آٹو ڈس ایبل سرنجز کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ کراچی کی مارکیٹوں میں دستیاب بعض آٹو ڈس ایبل سرنجز بھی غیر معیاری قرار دے دی گئی ہیں۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے میڈیکل پروڈکٹ الرٹ جاری کرتے ہوئے 3 مختلف کمپنیوں کی آٹو ڈس ایبل سرنجز کے 5 بیچز کی فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ڈریپ نے بتایا کہ سینٹرل ڈرگ لیبارٹری کراچی نے 3 سرنجز کے نمونوں کو غیر معیاری قرار دینے کی سفارش کی ہے۔

جاری کردہ میڈیکل الرٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ سرنجز کے نمونے آٹو ڈس ایبلٹی ٹیسٹ کے معیار پر پورا نہیں اترے، جس کے باعث ان کے دوبارہ استعمال کا خطرہ موجود ہے۔

ڈریپ کے مطابق غیر معیاری قرار دی گئی سرنج ساز کمپنیوں کا تعلق لاہور، پشاور اور صوابی سے ہے، سرجی پلاسٹ صوابی کی “کلینک آٹو ڈس ایبل سرنج” کا ایک بیچ، فرنٹیئر فارما پشاور کی “میڈی ایکوا آٹو سرنج” کا بیچ AD1B25 جبکہ صحت میڈیکل ڈیوائسز لاہور کی “الٹرا فائن آٹو سرنج” کے دو بیچز غیر معیاری پائے گئے ہیں۔

میڈیکل الرٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ متاثرہ سرنجز میں آٹو ڈس ایبل سسٹم کی خرابی کے باعث انہیں دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جو صحت عامہ کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

ڈریپ کا کہنا تھا کہ سرنجوں کا بار بار استعمال ہیپٹائٹس اور ایچ آئی وی سمیت خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

ڈریپ نے تمام صوبائی ڈرگ کنٹرول اداروں کو ہدایت کی ہے کہ غیر معیاری سرنجز کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، جبکہ مارکیٹ میں موجود متاثرہ بیچز کو ضبط کیا جائے۔

اتھارٹی نے مینوفیکچررز، امپورٹرز اور ڈسٹری بیوٹرز کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ متاثرہ سرنجز کے بیچز فوری طور پر مارکیٹ سے واپس منگوائیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close