روپیہ تو سنبھل گیا مگر عام آدمی تباہ ہو گیا! تنخواہ دار طبقے پر زیادہ ٹیکس سراسر ظلم ہے

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ شہباز شریف حکومت نے چار سال میں سالانہ ساڑھے آٹھ ہزار ارب روپے قرض میں اضافہ کیا، جبکہ اس سے قبل 75 سال کے دوران سالانہ اوسط اضافہ تقریباً 700 ارب روپے تھا۔

وفاقی دارالحکومت میں عوام پاکستان پارٹی کے زیر اہتمام بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کا معاشی استحکام کا دعویٰ اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، تاہم غربت، بے روزگاری اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں بہتری نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں استحکام آیا ہے لیکن عام آدمی کی مشکلات کم نہیں ہوئیں، جبکہ برآمدات، گندم اور کپاس کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔ ان کے مطابق کپاس کی پیداوار ایک کروڑ 40 لاکھ گانٹھوں سے کم ہو کر 60 لاکھ گانٹھوں تک پہنچ چکی ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ گندم کے کاشتکاروں کے ساتھ وعدہ خلافی کی گئی، جس کے باعث کسانوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔ مہنگی کھاد اور زرعی اخراجات نے کسانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے، جبکہ گندم کی پیداوار میں کمی کے باعث مستقبل میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکسوں میں اضافہ کر رہی ہے لیکن عوام کو حقیقی ریلیف فراہم نہیں کیا جا رہا۔ آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار ارب روپے سے زائد مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کراچی سمیت ملک کے کئی علاقوں میں عوام اب بھی پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام ٹیکس ادا کرتے ہیں مگر انہیں بجلی، پانی اور سکیورٹی جیسی بنیادی سہولیات پوری طرح میسر نہیں۔ ملک میں بجلی کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہونے کے باوجود بجلی مہنگی ہے۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کو مزید مہنگے بجلی منصوبے شروع کرنے کے بجائے موجودہ مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق بجٹ میں مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور برآمدات میں کمی جیسے بنیادی مسائل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ معاشی بحران کا مؤثر حل پیش نہیں کرتا، جبکہ گزشتہ 20 برسوں سے پاکستان کی معیشت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پیچھے جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس پالیسی ایسی ہونی چاہیے جس سے عام آدمی پر بوجھ کم ہو۔

مفتاح اسماعیل نے زور دیا کہ حکومت کو پہلے اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں اور اس کے بعد عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس عائد کرنا ناانصافی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close