25 کروڑ عوام کے لیے صرف ایک کھرب روپے؟ بجٹ کا کچا چٹھا کھول دیا

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران رکنِ اسمبلی شاندانہ گلزار خان نے وفاقی بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ سے امیر طبقہ مزید امیر ہو جائے گا جبکہ عام آدمی پر مالی بوجھ میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ نہ مسلم لیگ (ن) کا بجٹ ہے اور نہ ہی پیپلز پارٹی کا، بلکہ دو موروثی سیاسی خاندانوں کا بجٹ ہے۔ ان کے بقول ملک کو سیاستدانوں نے نہیں بلکہ موروثی سیاست نے نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت میں مخلص کارکن موجود ہیں، مگر موروثی قیادت نے نظام کو نقصان پہنچایا۔

شاندانہ گلزار خان نے سوال اٹھایا کہ مالدار طبقے کو دی جانے والی سبسڈیز کیوں ختم نہیں کی جاتیں جبکہ عام شہری مسلسل مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرضے موروثی حکمران لیتے ہیں لیکن ان کی ادائیگی پوری قوم کو کرنا پڑتی ہے۔

انہوں نے بجٹ میں عوامی فلاح کے لیے مختص رقم پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ 14 لاکھ عوام کے لیے صرف ایک کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق عوام پر مسلسل مالی بوجھ ڈال کر ان کی مشکلات میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ غریب پاکستانی کے لیے ہوائی سفر بھی ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔

اپنی تقریر میں انہوں نے سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کے حلقے کے دس تھانوں پر حملے ہو چکے ہیں، جبکہ وہ متاثرہ خاندانوں، خصوصاً بیواؤں کی داد رسی کرتے کرتے تھک چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صوبہ شدید مشکلات کا شکار ہے، تاہم اس کے باوجود وہ پاکستان کی افواج اور شہدا کے ساتھ کھڑی ہیں۔

تقریر کے اختتام پر شاندانہ گلزار خان نے وفاقی بجٹ کو “زیرو بائی زیرو بجٹ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ عوامی توقعات پر پورا نہیں اترتا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close