واشنگٹن: وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ڈاکٹرز اپنے علم، جدت اور اصلاحات کے ذریعے وطن کی خدمت جاری رکھیں، جبکہ مصنوعی ذہانت صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔
امریکا میں ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو صحت، خواندگی اور آبادی کے شعبوں میں متعدد چیلنجز درپیش ہیں، جبکہ ہیپاٹائٹس سی، ذیابیطس، تپِ دق (ٹی بی) اور پولیو جیسے امراض قومی سطح کے بڑے مسائل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے پاکستان پاپولیشن کونسل کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کی سربراہی وزیراعظم کریں گے، جبکہ تمام وزرائے اعلیٰ اس کونسل کے رکن ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے خصوصی پروگرام پر عمل جاری ہے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے پہلے مرحلے میں تین برس کے دوران تقریباً 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی، جبکہ مہنگائی کی شرح تقریباً 38 فیصد سے کم ہو کر 5 سے 6 فیصد کی سطح پر آ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2035 تک پاکستان کی برآمدات 100 ارب ڈالر سے تجاوز کرانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ سیاسی احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم ریاستی مفاد پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ دنیا کا کوئی بھی ملک سیاسی مقاصد کے لیے اپنے ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






