خبردار !!!وفاقی حکومت نے سرنجوں پر پابندی لگا دی

ایڈز اور دیگر موذی امراض کے پھیلاؤ کے بعد وفاقی حکومت نے روایتی سرنجوں پر پابندی لگا دی اطلاق یکم جنوری سے ہوگا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ملک میں ایڈز سمیت دیگر موذی امراض کے پھیلاؤ کے بعد وفاقی حکومت نے روایتی سرنجوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس حوالے سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ہدایات جاری کر دی ہیں۔

روایتی غیر انسولین ڈسپوزیبل سرنجز کی تیاری، درآمد و سیل پر پابندی ہوگی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے روایتی سرنجز پر پابندی کی ہدایات جاری کر دیں۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے سرنج ساز کمپنیز، امپورٹرز کو مراسلہ بھجوا دیا ہے۔

ڈریپ کے مطابق وزیراعظم کی ہدایات پر روایتی سرنجز پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ہوا ہے اور 31 دسمبر کے بعد روایتی سرنجز کی تیاری، درآمد اور فروخت غیر قانونی ہوگی۔

اس فیصلے کے تحت یکم جنوری 2027 سے ایک اور 10 سی سی کی روایتی سرنج پر پابندی ہوگی اور، یکم جنوری سے مارکیٹ میں سیفٹی انجینیئرڈ سرنجز فروخت ہو سکیں گی۔

مراسلے کے مطابق ایڈز سمیت دیگر موذی امراض پھیلاؤ کے پیش نظر روایتی سرنج پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مراسلے کے مطابق ڈریپ میڈیکل ڈیوائسز بورڈ نے روایتی سرنجز پر پابندی کی منظوری دی اور، روایتی ڈسپوزیبل سرنجز کی جگہ یکم جنوری سے آٹو لاک سرنجز استعمال کی جائیں گی۔

تاہم روایتی 10 سی سی سرنجز صرف بڑے سرکاری اور نجی اسپتالوں کیلیے مشروط دستیاب ہونگی۔ روایتی 10 سی سی سرنجز بڑے اسپتالوں کو مخصوص طریقہ علاج کیلیے فراہم ہوں گی جب کہ روایتی سرنج ساز کمپنیاں، امپورٹرز پیکنگ پر خریدار کا نام لکھنے کے پابند ہونگے۔

ڈریپ روایتی سرنجز کے محدود استعمال کا ریکارڈ رکھنے کیلیے ڈیجیٹل پورٹل قائم کرے گا۔ سیکنڈری، ٹرشری کیئر اسپتال روایتی سرنجوں کا ڈیٹا ڈریپ پورٹل پر اپ لوڈ کریں گے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close